دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
انہوں نے کہا کہ پندرہ شعبان کی طلوع فجر کے موقعہ پر امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت ہوئی جن کی برکتوں سے ہم پر بارش نازل ہوتی ہے، روزی ملتی ہے، ہدایت ملتی ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ غیبت میں امام سے استفادہ ایسا ہی ہے جیسے بادلوں کی اوٹ سے سورج روشنی کا فائدہ پہنچاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو اللہ نے آسمانوں پر اٹھا لیا لیکن حضرت امام زمانہ علیہ السلام زمین پر ہی موجود ہیں اور ہماری رہنمائی فرماتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں۔
وفا ق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگانے والوں نے نئے مدرسہ بورڈ بنا کر مذاہب کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔جب ریوڑیاں بٹ رہی ہوں تو لینے والے مل ہی جاتے ہیں۔پاک فوج قابلِ تعریف اور اس کا کردار قابلِ فخر ہے۔
حجۃ الاسلام سید جواد موسوی نے کہا اسی لیے امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں روایات ہیں کہ امام کے ظہور میں سب سے زیادہ مددگارجو طبقہ ہوگا وہ جوانوں کا ہوگا کیونکہ امام کو سب سے زیادہ ضرورت بھی اور محبت بھی ایسے جوانوں سے ہے جو جسمانی طور پر اور روحانی طور پر طاقتور ہوں اور مضبوط افکار کے مالک ہوں اور وہ امام کے ظہور کے راہ میں کام آسکیں امیدیں بھی سب سے زیادہ جوانوں سے ہی ہیں.
بین الاقوامی نظریہ مہدویت کا سولہواں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے کہا کہ جب ہم اس بات کاعقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمارا امام "حی وحاضر" ہے اور وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں توہم پر اس عقیدے کی کچھ ذمہ داریاں بھی عائدہوتی ہیں۔ اگر کوئی لا علمی کی حالت میں مرجائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
حضرت آیت اللہ صافی نے جنرل حسین اشتری سے ملاقات میں اعیاد شعبانیہ اور سال نو کی مبارکبادی دیتے ہوئے کہاکہ بہترین شیعہ زمانہ غیبت کے شیعہ ہیں؛ کیونکہ وہ ایام غیبت کی سختیوں پر صبر کرتے ہیں؛ لہٰذا انہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہونا چاہئے۔
آیت اللہ العظمیٰ نوری نے کہا کہ آج جرمنی، برطانیہ، فرانس، امریکہ اور غاصب صہیونی حکومت نے ہمارے مقابلے میں صف آرائی کر رکھی ہے۔ ایسے میں ہمارے معاشرے کو انتہائی طاقتور ہونے اور اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کو خوب سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان فرمودات کی روشنی میں فتنوں کو بخوبی سمجھ پائیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شبیہہ پیغمبر شہزادہ علی اکبر علیہ السلام ابن سید الشہداء امام حسین ع کے یوم ولادت کے موقع پر تمام محبان اہل بیت ع کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ شہزادہ شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دن وہ مبارک ساعت تھی جب خانوادہ رسالت ص کا ہر فرد شادمانی و مسرت سے سرشار تھا۔ شہزادہ علی اکبر علیہ السلام جامع صفات کا مظہر تھے.
آیت اللہ گرگانی نے مزید کہا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم(ص) سے فرمایا کہ میں نے آپ(ص) کو امن و امان کا ضامن بنایا ہے تاکہ لوگ امن و سکون سے زندگی بسر کریں۔ حضور اکرم (ص)کی بابرکت ذات امان نامہ ہے اور ان کے وصال کے بعد بھی جب تک امت استغفار کررہی ہو،اللہ تعالیٰ عذاب نازل نہیں کرے گا۔
آیت اللہ رضا رمضانی نے کہاکہ مسلمانوں کو اپنے دین کی بڑی شخصیات پہچاننا چاہیے کہا کہ مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جناب ابوطالب اسلام کے لیے باعث عزت و سربلندی تھے۔