دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
حجت الاسلام سید رضی الموسوی نے کہا کہ آج مخالف مذاہب کے کتنے ہزار مدارس ہیں مگر افسوس مومنین کےمدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے اسقدر کم تعداد میں ہونا لمحہ فکریہ ہے مومنین شعور پیدا کریں حسین ابن علی جیسی ہستیوں نے بھی میدان میں اتر کر دین کی نصرت کی لہذا ہمیں بھی میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔
حضرت آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ریاستِ مدینہ نے وحدت ایجادکی، تفریق نہیں۔ بھائی چارہ قائم کیا،لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ حکومت اپنے ریاستِ مدینہ کے دعوو ں پر غور کرے۔تمام مسالک کے دینی مدارس کے بورڈز کے اتحاد کو دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا کہ ہر اسلامی مکتبہ فکر کا ایک بورڈ ہے ، اتحاد تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم سے آپس میں متحد ہیں۔
لبنان کے اہل سنت عالم دین اور جمعیت "قولنا و العمل" کے سربراہ شیخ احمد قطان نے معراج النبی اور اسراء کی سالگرہ کے موقع اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد الحرام اور مسجد الاقصیٰ کے درمیان جو رابطہ قائم کیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد الاقصیٰ سے دستبردارہونا مسجد الحرام اور خانہ کعبہ سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وسیم رضوی ملعون کا تعلق امت مسلمہ سے نہیں۔مسلمان گھروں میں پیدا ہونے والے ایسے دین فروش اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہوتے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر کے مغربی استعماری و استکباری طاقتوں کو تسکین پہنچانا اور انہیں تقویت دینا ہے۔
علمائے بحرین نے امام بارگاہوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امام بارگاہیں بھی عبادت کے مراکز ہیں جن پر مساجد کے ساتھ ساتھ توجہ دینی چاہئے اور مساجد کو کھولنے کی اجازت کے ساتھ امام بارگاہوں کو بھی اجازت ملنی چاہئے۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مکتب تشیع نے اس خباثت کے مقابلے میں بیداری آگاہی اور شعور کا بھرپور مظاھرہ کیا اور اس ایشو پر پاکستان اور ھندوستان سمیت دنیا بھر کے تمام شیعہ علماء اور دانشور اکابر کے یکساں موقف اور بیانیہ نے اس ھندو صہیونی گٹھ جوڑ اور سازش کو بے نقاب اور ناکام بنادیا ہے.
اجلاس سے خطاب میں صدر جعفریہ الائنس کا کہنا تھا کہ یہ امت مسلمہ کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی ایک ناپاک کوشش ہے اور یہ علماء ہند و مفتیان ہند کی شرعی مسؤلیت ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی منصبی ذمہ داریاں کو پورا کرکے اس ملعون کے خلاف فتوی صادر کریں۔
اپنے ایک بیان میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے کا کہاکہ مقدس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری خود خداوند تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے، قرآن پاک آخری آسمانی صحیفہ اور قیامت تک نوع بشر کیلئے وسیلہ ہدایت و نجات ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی مسلمہ عقیدہ کیخلاف ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ناظم امتحانات مولانا سید شاہد حسین نقوی نے کسی دیگر وفاق کے حوالے سے خود سے منسوب بیان کو سیاق و سباق کیخلاف قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی وفاداریاں وفاق المدارس الشیعہ کیساتھ ہیں، جو مکتب اہل بیتؑ کی تعلیمات کے مدارس کا معتبر پلیٹ فارم ہے۔