ہندوستان کے 58 علمائے کرام کا رہبرِ معظم کی حمایت میں مشترکہ بیان
























ملک ہندوستان کے 58 علمائے کرام نے رہبرِ معظم کی حمایت میں مشترکہ بیان دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ نائب امام،ولی فقیہ، رہبر معظم، مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای حفظہ اللہ ہماری آن بان شان اور امید مستضعفین جہان ہیں
رہبر انقلاب شہداء البرز کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات کے دوران نوجوانوں میں دینی شناخت اور دفاع مقدس کے اقدار کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ ملک میں پیش رفت کے لیے استعداد کافی موجود ہے
مدرسہ امام علی علیہ السلام میں یومِ ولادتِ با سعادت حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے ایک باوقار تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی اور اس موقع پر فارغ التحصیل طلاب کو علمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
مدرسہُ الولایہ میں بروزِ جمعہ ایک روحپرور مجلسِ ترحیم منعقد ہوئی، جس میں دو جید شخصیات—مرحوم حجة الاسلام امتیاز حسین کمیلی اور مرحوم شیخ فضل حسین (والدِ محترم حجة الاسلام شیخ محمد علی فضل)—کی خدمات کو عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا گیا
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی حفظہ اللہ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ نے قومی […]
*درس اخلاق :معلم اخلاق قرآن حضرت آیت اللہ شیخ عبداللہ جوادی آملی حفظہ اللہ* صبر اور تضرع ہی اللہ تک پہنچنے کے راستے ہیں […]
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج صبح ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں سے ملاقات میں حضرت فاطمہ زہرا س کو تمام میدانوں میں ایک عرشی اور بلندترین اوصاف سے آراستہ انسان قرار دیا، اور گھر و معاشرے میں خواتین کے مقام اور ان کے حقوق کے اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کرتے ہوئے مردوں کے لیے خواتین اور اپنی بیویوں سے متعلق لازم اور ممنوعہ رویّوں کی تفصیل بیان کی۔
سیستان اور بلوچستان صوبے کے 400 سے زیادہ اہل سنت کے آیمہ جمعہ، جماعات اور مدرسوں نے آسٹریلیا کی طرف سے سپاہ پاس داران ان قلاب اسلامی پر الزامات عائد کرنے کے اقدام کو "غیر قانونی قرار دیا
اے ایم آر میڈیکل اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ اور لائف لائن آئی سینٹر دہلی کے باہمی اشتراک سے جاری ہر ہفتہ فری آئی و میڈیکل کیمپ میں اس ہفتے معروف عالم اور صحافی مولانا سید محمود حسن رضوی نے شرکت کی اور کیمپ کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا
انہوں نے شرارت کی، مار کھائی اور خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔ صیہونی ریاست نے اس جنگ کی منصوبہ بندی 20 سال پہلے کی تھی