زائرینِ حسینی کے خون کا بدلہ دشمنوں کے لیے خوفناک انجام ثابت ہوگا: کتائب سید الشہداءؑ
























انجمنِ ثقافتی عفاف پاکستان، قائدِ ملّت جعفریہ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، المصطفٰی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ایک علمی و ثقافتی انجمن،
جامعہ المجتبیٰ گجرات کے دورے کے دوران مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، مولانا فیاض حسین مطہری اور دیگر تنظیمی و سماجی شخصیات بھی علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے ہمراہ موجود تھیں۔
ضلع کوہاٹ کے تنظیمی عہدے داروں اور کارکنوں نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی کے ساتھ شیعہ علماء کونسل خصوصی ملاقات کی۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے ہنگو میں مختلف مدارس ، سکولز اور ہسپتال کا دورہ کیا۔
شعبہ تحقیقات جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی جانب سے مرحلہ وار برگزار ہونے والے علمی تحقیقاتی نشستوں کے سلسلے کی پہلی نشست بروز جمعہ ۲ دسمتر ۲۰۲۲ کو فاطمیہ ہال حسینیہ بلتستانیہ قم میں برگزار ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور انہوں نے اپنے امور اور فعالیت کو صرف دینی مدارس کی تاسیس ہی کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ دیگر قومی مسائل میں بھی بڑھ چڑھ کو حصہ لیا اور سخت و بحرانی حالات میں قوم کی بہترین انداز میں رہنمائی فرمائی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں زینبی کردار پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔عالمی استکباری قوتیں امت مسلمہ سے ان کی ایمانی قوت چھیننے کے لیے تمام تر وسائل کا بھرپور استعمال کررہی ہیں۔ثقافتی یلغار کے ہتھیار سے نئی نسل کو دین سے دور کیا جا رہا ہے۔
ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ کا کہنا تھا کہ آج جدید دور ہے اور جدید دور میں طرز کے مطابق حصول تعلیم حاصل کر کے نوجوان نسل آگے بڑھے جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے جدید علوم سے آراستہ ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑے ہوئے۔ علم ایسی دولت ہے جس کو کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔
اجلاس سے خطاب میں ایس یو سی رہنما نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، شرعی قوانین کی خلاف ورزی و معاشرتی برائیوں پر مبنی فلم کی نمائش کسی طور قابل قبول نہیں، مزکورہ اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے والی شخصیات کے خلاف جب تک گھیرا تنگ نہیں کیا جاتا تب تک دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔