دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شب ولادت باسعادت کے پر فیض جشن کے بعد جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے صدر اور نمایندگان مجلس کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی۔
لاہور میں تقریب سے خطاب میں ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اگر مخلص اور خدمت کے جذبے سے کام شروع کر دیں تو آدھی سے زیادہ بیماریاں ختم ہو جائیں، اس پیشہ کو کاروبار نہیں خدمت کے جذبے کے تحت کریں، اللہ آپ کی روزی میں خودبخود برکت ڈال دے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے پرہیزگار عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین عباس علی اختری کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر تقوی نے قم میں “وفاق ٹائمز” آفس کا دورہ کیا ہے۔
جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے شیراز واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ایران میں ہونے والے ان حالیہ واقعات میں دشمن کے آلہ کار فسادیوں کے ناپاک ہاتھوں سے بہت سے قتل ہوئے، ان بے گناہوں کے قتل کے بارے میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ دینِ اسلام کے نقطۂ نظر اور موقف کا بیان ضروری تھا۔
شہر الہ آباد میں مدرسہ امامیہ انوارالعلوم آپ کی مستقل یادگار ہے جس کی ادارت کے فرائض آپ کے بڑے فرزند مولانا سید جواد الحیدر جوادی انجام دے رہے ہیں ـاس مدرسہ کی تاسیس سنہ 1985ء میں عمل میں آئی ـ
علامہ سید محمد تقی نقوی نے جے ایس او کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ایک نوجوان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے، بالخصوص تنظیمی نوجوان کو معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی،سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری اور نائب صدر علامہ مرید حسین نقوی نے معروف کشمیری رہنما مولانا محمد عباس انصاری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ بالخصوص کشمیر ی عوام کاعظیم نقصان قراردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحہ میں بیس عبادات گزار مسلمان و مومنین جن میں ماں کی آغوش میں موجود ایک کم سن بچہ بھی شامل تھا، نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ ایک تلخ ترین واقعہ ہے جس میں حرم مطہر کی حرمت کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت میں مصروف بےگناہ انسانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔