دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ میں عورتوں اور بچوں کے اسپتال پر وحشیانہ بمباری کو اپنی شکست و ناکامی پر غاصب صیہونی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ غزہ میں تمام تر جارحیت کے باوجود غاصب صیہونی حکومت کی شکست، ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور لوگوں کے رہائشی مکانات اور اسپتالوں میں گھس جانا کوئی کامیابی نہیں ہے۔
علم فلسفہ کی اہمیت و افادیت ہر دور کی طرح آج بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کا یہ اہم ترین حصہ اب سکڑتا جارہاہے البتہ سائنس کی ترقی اور تیز رفتاری کے باوجود انسان کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں اور جیسے جیسے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے



انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس استقلال اور حریت نہیں ہے تو گویا کچھ بھی ہمارے پاس نہیں۔ یہ سب کچھ ملتا ہے قرآن و اہل بیت سے۔ اہل بیت ؑ کو چھوڑنے والوں نے پہلے دن سے ہی کہہ دیا تھا ہمارے لئے قرآن ہی کافی ہے لیکن رسول اللہ کے فرمان کے مطابق قرآن اور اہل بیت کو ماننے والوں کو حقیقی طور پر اہل ایمان بننا چاہیے۔
قرآن صرف ثواب کی نہیں،بلکہ عملی کتاب ہے، پڑھیں، سمجھیں اور عمل کریں، قرآن مجید کو اپناو گے تو علم حاصل ہوگا، حریت وآزادی آ ئے گی
دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی جناب راجہ پرویز اشرف نے مرکزی دفتر کی ان کاوشوں کو سراہتے ہوئے آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی کی طول عمر کے لیے دعا کی اور حسن ضیافت پر شکریہ بھی ادا کیا۔



جامعہ امام صادق میں اس بار حوزوی علوم کے ساتھ ساتھ انگلش لنگویج کمپیوٹر کی کلاسیں بھی منعقد ہو رہی ہیں تاکہ طلاب جدید علوم سے بھی مسلح ہو کہ بہتر انداز میں دین کی خدمت کرنے کا موقع مل سکے۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کی انتہا کردی، وہ فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے، غزہ کے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ علامہ طباطبائی کی شخصیت کئی حوالے سے ممتاز تھی جن میں علم، پرہیزگاری، ادب اور فنون لطیفہ سے لگاو، دوستی اور وفاداری شامل ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی علمی پہلو تھے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے قرآن و سنت اور تاریخ اسلام سے جس طرح مثبت انداز میں استفادہ کیا وہ اُن کا طرئہ امتیاز تھا؛ اس استفادے کا واضح اظہار آپ کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ آپ نے جگہ جگہ پراسلام ،پیغمبراکرم ۖاور دینی اقدار وروایات کو موضو ع کلام بنایا ہے۔