مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کی انتہا کردی، وہ فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے، غزہ کے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ علامہ طباطبائی کی شخصیت کئی حوالے سے ممتاز تھی جن میں علم، پرہیزگاری، ادب اور فنون لطیفہ سے لگاو، دوستی اور وفاداری شامل ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی علمی پہلو تھے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے قرآن و سنت اور تاریخ اسلام سے جس طرح مثبت انداز میں استفادہ کیا وہ اُن کا طرئہ امتیاز تھا؛ اس استفادے کا واضح اظہار آپ کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ آپ نے جگہ جگہ پراسلام ،پیغمبراکرم ۖاور دینی اقدار وروایات کو موضو ع کلام بنایا ہے۔
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای مدظلہ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ مکمل طور پر غزہ کے جرائم میں غاصب صہیونیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہے۔
اقوام متحدہ جیسا ادارہ سامراج اور ان قابض قوتوں کے سامنے انتہائی بے بس او ربے کس نظر آرہاہے ،پوری انسانیت اس ظلم و جبر پر چیخ اٹھی ہے مگر افسوس انتہائی تباہی و بربادی کے باوجود دباﺅ ڈالنے والے خاموش ہیں ،
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے یکساں قومی نصاب کے نام پر نافذ کیے گئے تعلیمی نصاب کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اہل تشیع کے تحفظات دور کیے بغیرمروجہ نصاب یکسا ں نہیں کہلا سکتا ، یہ متنازع ہی رہے گا۔ متنازعہ نصاب قومی نہیں ،مسلکی ہے۔ جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ، واپس لیا جائے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے غزہ میں بمباری کو روکنے کے لیے امریکہ اور صیہونی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے ہمہ جہت کوششوں کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق غزہ کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلی باردیکھا ہے کہ فلسطین کے حق میں حمایت بڑھی ہے، اور عالمی سطح پر کچھ تبدیلی آئی ہے ۔روس جیسے ملک کا نمائندہ اقوام متحدہ میں موقف اختیار کرتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے چونکہ یہ ایک غاصب ریاست ہے ۔جو فلسطین کی زمین پر بنائی گئی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سامراج نے اپنے ناجائز بچے کے تحفظ کےلئے اس بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی قوانین اور روایات کو روند چکاہے بلکہ اپنے منصوبوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر بد مست ہاتھی کی طرح پاگل ہوچکاہے