دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پاکستان میں،خاندان عصمت و طہارت کے 11عقیدت مندوں اور پیروکاروں کی تکفیری گمراہ کن گروہوں کے ہاتھوں شہادت نے ایک بار پھر شیعیان و دوستان اہل بیت علیہم السلام کے خلاف دہشت گرد داعش اور صہیونی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو برملا کردیا۔
مظاہرہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ سے نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا اور کرگل مین بازار سے ہوتے ہوئے واپس حوزہ علمیہ چوک پر اختتام پذیر ہوا ۔اس دوران مظاہرین دہشتگردی نامنظور ، پاکستان سرکار قاتلوں کو سزاد دو ، شیعہ نسل کشی بند کرو جیسے فلک شگا ف نعرے بلند کررہے تھے ۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ شبیر میثمی، علامہ جمعہ اسدی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری، وفاقی وزیر علی زیدی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر صوبائی وزرا نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
خانوادہ شہداء نے اعلان کیا کہ ہمارے تمام مطالبات منظور کرلئے گئے ہیں،ملت جعفریہ سے اپیل ہے کہ پاکستان بھر میں دھرنے ختم کردیں۔
ایرانی بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد باقر تحریری ان شہادتوں اور قربانیوں سے مسلمانوں اور حکومتوں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں،کہ اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے غمزدہ دلوں کو سکون ملے۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان انسان ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔انہیں اپنا بیان واپس لے کر ہزارہ قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور فی الفور لواحقین کے مطالبے کے مطابق کوئٹہ پہنچ کر انہیں آئندہ ایسے کسی بھی واقعات کی یقین دہانی کرانی چاہئے
عمران خان بادشاہ سلامت ہیں اور انہوں نے اپنا دورہ کوئٹہ ملتوی کردیا ہے اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ مقتولین کے ورثا انہیں میل کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ظلم کو اللہ تعالیٰ بالکل پسند نہیں کرتا ۔وزیراعظم کسی دباو ¿ کا شکارہیں ،وہ کابینہ میں وہ بات چیت تو کرتے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے لیکن انھیں اناپرستی تبدیل کرنا ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے دباو ¿ میں نہیں جائیں گے۔
آج بروز جمعہ انجمن امامیہ بلتستان کے زیر سرپرستی انجمن شہریان، انجمن تاجران، سول سوسایٹی، شیعہ علماء کونسل، جے ایس او، مجلس وحدت المسلمین، آیی ایس او اور امامیہ آرگنائزیشن کی جانب سے سانحہ مچھ میں شیعہ ہزراہ برادری پر سفاکانہ ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج اور شہدا کے وارثین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسج سکردود سے یادگار شہدا تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ کے مظلوموں کیساتھ ہیں، وہ جب تک دھرنے میں بیٹھے رہیں گے، ہم بھی یہاں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے 2012 اور 2021ء کے وزیراعظم میں فرق ظاہر ہونے لگا ہے، کل تک جو ہزارہ برادری سے اظہار یکجتہی کرتے ہوئے انہیں مظلوم کہتا تھا آج وہی عمران خان داعش کا ترجمان اور طالبان خان بن رہا ہے۔