دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے سندھ کے وزیر اعلی ناصر شاہ شاہ کے بیان پر رد عمل ل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مچھ کے واقعے پر مگرمچھ کے آنسوؤں نہ بہائے، ہم کسی دھوکے میں نہیں آئینگے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہمارے ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں.
اجلاس میں شہداء کے لواحقین کے مطالبات کی بھرپور حمایت اور تائید کا اعلان کیا گیا اور وزیر اعظم پاکستان سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ یہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی انسانی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ وہ فی الفور کوئٹہ جائیں اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کریں اور ان کے مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے ورثاء کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکے ورثا کی داد رسی کے لیے وزیر اعظم کو فوری طور پر کوئٹہ جانا چاہئے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کوئٹہ میں گزشتہ تین روز سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں مرد و زن بچوں اور بوڑھوں کا شدید سردی میں اپنے اپنے شہداءکی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے اور حکمرانوں کی جانب سے ہزارہ کے مظلوم عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ داد رسی نہیں کی گئی۔ جس سے ملک بھر میں مکتب تشیع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان شیعہ ہزارہ مظاہرین کے پاس کوئٹہ آئیں، انکے مطالبات سنیں اور پورے کریں،بصورت دیگر ہم پورے پاکستان کو جام کرکے پارلیمنٹ ہاوس،وزرائے اعلیٰ ہاوسز اور گورنر ہاوسز کا گھیراو کرینگے۔
رپورٹ کے مطابق منگل 5 جنوری کو سینکڑوں شیعیان علی ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے پاکستانی قونصل خانہ کے سامنے سرا پائے احتجاج بنے رہے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ جعفریہ کونسل آف یو ایس اے نے حال ہی میں مچھ کوئٹہ میں پاکستانی داعش کے ہاتھوں کند چھریوں سے ہاتھ پاؤں باندھ کے ذبح کیے جانے والے ۱۱ ہزارہ شیعوں کے قتل کی خلاف کیا۔
وفاق ٹائمز | دکھ کی اس گھڑی میں ہزارہ برادری کے ساتھ ہیں، جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ کا احساس ہے، آپ کا درد جانتا ہوں اور آپ کےمطالبات کا احساس ہے
بلوچستان کے علاقےمچھ میں 11 کان کنوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاجی دھرنے جاری ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم اور مخلص عالم دین نے اپنی بابرکت زندگی فقہ، حکمت ، قرآن مجید کی تعلیمات اور اہلبیت عصمت وطہارت(علیہم السلام) کے مکتب کی ترویج و تبلیغ میں گزاری۔ انقلابی اور علمی میدان میں مختلف شبہات کے مقابلے میں ہمیشہ اپنے روشن اصولوں کی پابندی،جرائت اور روشن فکری اس عمارِانقلاب کی جملہ خصوصیات ہیں۔ اسلامی نظام اور ولایت فقیہ کا عالمانہ اورمحققانہ دفاع اس عظیم دانشور اور عالمی دین کی بابرکت زندگی کا نمایاں پہلو ہے۔