مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں مذہب مخالف سوچ اور ان لوگوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہیں جو مظلوم لوگوں کو جھوٹے بہانے سے قتل کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں اور متعدد بے گناہ خاندانوں کو سوگوار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ایسے عقلی، انسانیت اور آسمانی مذاہب کے منافی واقعات اور حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئے ، تمام انسانی مذاہب حتی کہ غیر الہی مذاہب بھی ایسے دردناک اور ناجائز طریقے کے قتل کو تسلیم نہیں کرتے۔
علامہ محمد افضل حیدری نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ہزارہ شہداء کے ورثاء کو بلیک میلر قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور ان کے منصب کے منافی ہے، عمران خان کا اپنے سیاسی مخالفین اور حکومتی نا اہلی کے متاثرین غم زدگان کیلئے ایک جیسے الفاظ استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پاکستان میں،خاندان عصمت و طہارت کے 11عقیدت مندوں اور پیروکاروں کی تکفیری گمراہ کن گروہوں کے ہاتھوں شہادت نے ایک بار پھر شیعیان و دوستان اہل بیت علیہم السلام کے خلاف دہشت گرد داعش اور صہیونی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو برملا کردیا۔
مظاہرہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ سے نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا اور کرگل مین بازار سے ہوتے ہوئے واپس حوزہ علمیہ چوک پر اختتام پذیر ہوا ۔اس دوران مظاہرین دہشتگردی نامنظور ، پاکستان سرکار قاتلوں کو سزاد دو ، شیعہ نسل کشی بند کرو جیسے فلک شگا ف نعرے بلند کررہے تھے ۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ شبیر میثمی، علامہ جمعہ اسدی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری، وفاقی وزیر علی زیدی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر صوبائی وزرا نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
خانوادہ شہداء نے اعلان کیا کہ ہمارے تمام مطالبات منظور کرلئے گئے ہیں،ملت جعفریہ سے اپیل ہے کہ پاکستان بھر میں دھرنے ختم کردیں۔
ایرانی بزرگ عالم دین آیت اللہ محمد باقر تحریری ان شہادتوں اور قربانیوں سے مسلمانوں اور حکومتوں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں،کہ اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے غمزدہ دلوں کو سکون ملے۔
وزیراعظم عمران خان کو یہ بیان دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان انسان ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔انہیں اپنا بیان واپس لے کر ہزارہ قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور فی الفور لواحقین کے مطالبے کے مطابق کوئٹہ پہنچ کر انہیں آئندہ ایسے کسی بھی واقعات کی یقین دہانی کرانی چاہئے