مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر اور حسنِ نیت کے ساتھ، 18 جون 2026 کو درج ذیل امور پر اتفاق کیا
کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر شیعہ ہزارہ کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔ سخت سردی کے باوجود احتجاجی دھرنے میں خواتین، بچے اوربزرگ افراد شامل ہیں، دھرنے کے شرکا نے کہا کہ جب تک وزیراعظم احتجاجی دھرنے میں نہیں آتے میتوں کی ہمراہ دھرنا جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرونا سے نجات کیلئے دعا کے علاوہ احتیاط بھی ضروری ہے اور دیسی، یونانی دوائیوں کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ قرآن کی طرف ہر دور میں مسلمانوں کی توجہ ضروری ہے۔اس دور میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای نے قرآن پر خصوصی توجہ کی ہے جس کے نتیجہ میں ایران میں ہزاروں حفاظ اور قاریان ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیرحسین نجفی نے نجف اشرف عراق سے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے اپنے عزیزوں کی لاشوں کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے مومنین کرام کے نام اپنا تعزیتی و تسلیتی بیان ارسال کیا ہے جسے وہاں حاضرین کے سامنے مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف کے وکیل حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شبیر حسین میثمی نے پڑھ کر سنایا۔
معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے سندھ کے وزیر اعلی ناصر شاہ شاہ کے بیان پر رد عمل ل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مچھ کے واقعے پر مگرمچھ کے آنسوؤں نہ بہائے، ہم کسی دھوکے میں نہیں آئینگے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہمارے ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں.
اجلاس میں شہداء کے لواحقین کے مطالبات کی بھرپور حمایت اور تائید کا اعلان کیا گیا اور وزیر اعظم پاکستان سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ یہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی انسانی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ وہ فی الفور کوئٹہ جائیں اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کریں اور ان کے مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے ورثاء کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکے ورثا کی داد رسی کے لیے وزیر اعظم کو فوری طور پر کوئٹہ جانا چاہئے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کوئٹہ میں گزشتہ تین روز سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں مرد و زن بچوں اور بوڑھوں کا شدید سردی میں اپنے اپنے شہداءکی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے اور حکمرانوں کی جانب سے ہزارہ کے مظلوم عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ داد رسی نہیں کی گئی۔ جس سے ملک بھر میں مکتب تشیع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان شیعہ ہزارہ مظاہرین کے پاس کوئٹہ آئیں، انکے مطالبات سنیں اور پورے کریں،بصورت دیگر ہم پورے پاکستان کو جام کرکے پارلیمنٹ ہاوس،وزرائے اعلیٰ ہاوسز اور گورنر ہاوسز کا گھیراو کرینگے۔
رپورٹ کے مطابق منگل 5 جنوری کو سینکڑوں شیعیان علی ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے پاکستانی قونصل خانہ کے سامنے سرا پائے احتجاج بنے رہے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ جعفریہ کونسل آف یو ایس اے نے حال ہی میں مچھ کوئٹہ میں پاکستانی داعش کے ہاتھوں کند چھریوں سے ہاتھ پاؤں باندھ کے ذبح کیے جانے والے ۱۱ ہزارہ شیعوں کے قتل کی خلاف کیا۔