دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
سید مقاومت سید حسن نصر اللہ رضوان الله علیه، حزب اللہ کے عزیز رہنما کی افتخار آمیز شہادت، تمام ان لوگوں کے لیے جو اسلام اور امام حسین علیہ السلام کے عظیم مکتب سے وابستہ ہیں اور جو عالمی کفر اور سفاک صہیونی رژیم کے خلاف کھڑے ہیں، ایک بہت افسوسناک اور دلسوز خبر تھی۔
بے شک شہادت اس عظیم شخصیت کی آخری آرزو تھی اور وہ عرصہ دراز سے اس سعادت کی تمنا رکھتے تھے لیکن اس وحشیانہ اقدام سے اس رژیم نے اپنی نابودی کی راہ کو مزید ہموار کر دیا ہے۔
وہ عظیم شہید اپنی توحیدی نظر کے ساتھ میدان جنگ میں تھے اور ان کے عمل اور گفتگو میں توحید واضح تھی۔ ان کی پختہ یقینی اور اللہ کی مدد پر مکمل اعتماد اور حضرت مهدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی راہ میں اپنے سپاہی ہونے کا گہرا یقین، انہیں عظیم اور روحانی مقامات تک لے گیا اور وہ حقیقتاً ایک ولی الٰہی تھے۔
سید مقاومت، ولایت کے وفادار سپاہی، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل، حاج سید حسن نصراللہ کی شہادت، جنہوں نے خدا کے دشمنوں کے خلاف مقدس جہاد میں اپنی جان نچھاور کر دیا اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے دلوں کو غمگین کر دیا، اس غم سے مومنین کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اپنے جد امجد حضرت امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ہیں۔
انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ظلم و نسل کشی کو نہ روکا گیا تو پھر اس کے اثرات خطے سمیت پوری دنیا پر پڑیں گے۔
آیت اللہ العظمی سیستانی نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصر اللہ نے اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کردی ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری اعلان میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے لبنان کے حالیہ واقعات کے بارے میں ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔