دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
چالیس سال حضور ؐنے اس طرح کے گزارے کہ اسی سے معلوم ہورہا تھا کہ جب بعثت ہوگی تو دین کس قسم کا ہوگا۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے نام ایک پیغام میں لبنانی عوام اور حزب اللہ کے مجاہدین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے حوزہ ہائے علمیہ خواہران کی بنیاد کے حوالے سے کہا : یہ ادارہ ایک مضبوط درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پیوست ہیں، اور اس کی بنیاد حضرت خدیجہ (س) اور حضرت فاطمہ (س) نے رکھی تھی۔
اعلیٰ و ارفع اوصاف و کمالات کا مجموعہ ہستی کی سیرت طیبہ اُمت محمدی بلکہ پوری انسانیت کیلئے نمونہ عمل ہے
ہر قوم کے لیے ایک مخصوص لباس اور نظام ہوتا ہے۔ اہلِ علم کا لباس بھی مخصوص ہونا چاہیے
انھوں نے اتحاد کو ان سازشوں سے مقابلے کا راستہ بتایا اور کہا کہ اتحاد کا موضوع، حکمت عملی نہیں بلکہ قرآن کا ایک بنیادی اصول ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی عالمی تکثیر پسندی کو ختم کرنے اور نئے طاقتور مراکز کی تشکیل پر مرکوز ہے۔
آیت اللہ محفوظی نے اپنی ابتدائی تعلیم ایران کے صوبہ گیلان کے ایک گاؤں رودسر میں مکمل کی اور پھر ہائی اسکول میں داخلہ لیا اسکے تقریباً ایک سال بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حوزہ علمیہ رودسر میں داخلہ لیا۔
گیارہویں تاجدار امامت نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں۔ قیدو بند میں رہے، آپ فرماتے تھے: جب کسی کی محفل میں جائیں تو عاجزی اختیار کریں، کسی کے لئے باعث زحمت نہ بنیں۔