دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
مجالس میں خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ جگہ کا بندوبست کیا جائے اور اسی طرح خواتین کے لیے الگ سے خاص مجالس کا بھی اہتمام کیا جائے کہ جس میں فقط خواتین حاضر ہوں ۔
ماہرین اسمبلی کے بورڈ کے رکن نے کہا: اگر منافق نہ ہوں تو عالمی ظلم کو آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے۔ یہ دشمنوں اور دوستوں کے درمیان حد بندی کو ختم کر دیتے ہیں اور دوست کے بھیس میں اسلام کو بدترین نقصان پہنچاتے ہیں۔
مکتب اہل بیت (اہل تشیع) کی نمائندگی کے بغیر اسلامی نظریاتی کونسل، اسلامی نہیں کہلا سکتی، یہ صرف سنی نظریاتی کونسل ہوگی
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ شہید صدر رئیسی نے دن رات عوام کی مشکلات حل کرنے کے لیے کوششیں کیں۔ انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے ملک کے منتخب صدر کے لئے ایک نمونہ قائم کیا۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: اگرچہ عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام برپا کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے اپنے انداز رائج ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان اپنے الگ اور مخصوص انداز سے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت اور ان کے مشن کی ترویج کے لیے محافل برپا کرتے ہیں۔
امام جمعہ خارگ نے ثقافتی مقاومت کے میدان میں خواتین کے منفرد کردار کہ متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن حجاب کو قومی اور مذہبی اقدار کے دائرے سے نہیں نکال سکتا۔
تعلیماتِ اہل بیت علیہم السّلام کی تبلیغ میں بزرگانِ دین کے طریقے پر توجہ دینا، رہبر معظم انقلاب اسلامی اور تقلید کے عظیم احکام کی وصیتوں پر عمل کرنا، اور عزاداری کے احکام کی پابندی کرنے کہ ساتھ اہل بیت(ع) کی مجالس میں شرکت سے ہمیں عبادت الہی کی طرف جھکاؤ میں مدد ملے گی اور ان مجالس کی برکات میں بھی اضافہ ہوگا۔
ایرانی صدارتی انتخابات کے اختتام پر رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کامیاب انتخابات کے انعقاد پر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا اور نو منتخب صدر کو نصیحت کی کہ عوام کی آسائش، ملک کی پیشرفت اور شہید رئیسی کی راہ کو جاری رکھے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپ میں طلباء کی اسلامی انجمنوں کی 58 ویں نشست کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج کے جوان طلباء اپنے ایمان اور ذاتی صلاحیت پر اعتماد کرتے ہوئے بڑے مسائل اور امور میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔