صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
انہوں نے علامہ طباطبائی کی قرآنی اور تفسیری جہت کو ان کی شخصیت کے اہم پہلوؤں میں قرار دیا اور کہا: قرآن کریم کے پہلے مفسر خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے اور بعد میں مختلف افکار و نظریات کی آمد کے مطابق تخصصی طور پر لوگوں نے قرآن مجید کی تفسیر کی۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حسین شریعتی نژاد نے کہا: ملک ایران میں گزشتہ سال رونما ہونے والے واقعات میں جو چیز نمایاں تھی وہ تھی کہ کچھ لوگ انقلاب اسلامی کے نظریات مقابل میں آئے ، شاید انقلاب اسلامی کے آغاز سے آج تک ایسی لہر ایران میں نہیں اٹھی تھی جیسی لہر پچھلے سال اٹھی۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کی انتہا کردی، وہ فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے، غزہ کے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
جہاد اسلامی فلسطین نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت غزہ میں اپنا کوئی فوجی مقصد حاصل نہیں کر پا رہی ہے اسلئے الشفا اسپتال میں بیماروں اور پناہ لینے والے عام شہریوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور صیہونی جرائم کے ارتکاب میں امریکہ بھی برابر کا شریک ہے۔
آستانہ قدس رضوی کے ادارہ برائے تبلیغات اسلامی کے نائب سربراہ نے اس حوالے سے کہا کہ بچوں کیلئے ایک ہال کو مختص کرنا، حرم حضرت امام رضا علیہ السّلام کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی کی دیرینہ خواہش تھی، تاہم ان کی اس خواہش کے مطابق ننھے زائرین سے منسوب ایک ہال کا افتتاح ہوا ہے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر 700 بچے علمی، ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں سرانجام دے سکتے ہیں۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ علامہ طباطبائی کی شخصیت کئی حوالے سے ممتاز تھی جن میں علم، پرہیزگاری، ادب اور فنون لطیفہ سے لگاو، دوستی اور وفاداری شامل ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی علمی پہلو تھے۔
انہوں نے جنگ بندی نہ ہونے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے قابل ملاحظہ تعداد میں لوگوں کے مارے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں ایران، ترکیہ اور الجزائر کی تجاویز آئیں۔ پوری صورتحال میں واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان غائب ہے، اجلاس میں پاکستان کی کسی تجویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے۔
دنیا کی 100 قومیتوں سے تعلق رکھنے والے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر نگرانی 17 اسکولوں سے منتخب 2000 کے قریب بچوں نے احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے غاصب اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے۔