صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی، مدینے کی ریاست میں انسانیت اور احساس تھا، ہیلتھ کارڈ کے بعد لوگوں کو تعلیم کے شعبے میں بھی سہولیات دیں گے، یونیورسٹیز اور کالجز میں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ کو پڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ یمن کے تنازعہ اور حالیہ صورتحال پر ملکی رد عملٍ فریقین کے حوالہ سے مساویانہ نہیں بلکہ یکطرفہ ہے، بین الاقوامی مسائل کوبین الاقوامی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اس میں شک نہیں کہ دنیا میں تعلقات برابری کے ساتھ مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور کے سینیئر مدرس ، بزرگ عالم دین مولانا سید خادم حسین نقوی صاحب بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔
حاجیہ بانو نے مزید کہاکہ آج کے دورمیں خواتین کو مغربی سوچ نے ذریعۂ معاش بنایا ہے لہذا ہمیں اپنے وقار اور عظمت کو محفوظ رکھنے کی اشدضرورت ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہم اپنی نجی یا معاشرتی زندگی میں درپیش مشکلات و مسائل کو حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی وسیلہ لینے کے بجائے ایسے افراد کے سامنے رکھتے ہیں جن کے سبب ہمارے مسائل مشکلات اور ذہنی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتاہے۔
حجت الاسلام سید شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے وفد کے ہمراہ آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج تک اس کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، حکمران قانون کی حکمرانی، جمہور، دستور کی بالادستی کی صرف مالا جپتے ہیں، مگر عملاً سب کچھ مفادات کی نذر کر دیا جاتا ہے، یہی حال اردو زبان کے ساتھ کیا جا رہا ہے، زبان زندہ قوموں کی پہنچان ہوا کرتی ہے،
جواد الائمہ اسلامک فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ولادتِ دخت رسول(ص)اور بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کے یوم ولادت کی مناسبت سے ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد ہوا جس میں کثیر تعداد میں علمائے کرام اور طلباء نے شرکت کی۔
یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔
حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی نے غیرمستند اور ناقابل اعتمادمطالب کے بیان اور اسے دین و مذہب سے منسوب کرنے کو مخالفین اور دشمن کے میڈیا اور نیٹ ورک کو مذہب و مکتب کے خلاف مواد فراہم کرنے کے مترادف قراردیا۔