صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
حالیہ دنوں لبنان میں سفاک اور مجرم صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کی شہادت اور رہائشی علاقوں میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی پر ہر مسلمان کا دل غمزدہ ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے دہشت گرد صیہونی حکومت کے ذلت آمیز جرائم اور وسیع پیمانے پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام اسلامی حکومتوں اور عالم اسلام سے صیہونی سرطان کے ناسور کو مکمل طور پر نابود کرنے کے لیے لبنان کے مزاحمتی مرکز کے ساتھ مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور تعاون کرنے کی تاکید کی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک فرمان کے ذریعے سابق قائم مقام صدر ڈاکٹر محمد مخبر کو اپنا مشیر اور معاون مقرر کرتے ہوئے شہید صدر رئیسی کی مدبرانہ پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے ملک کے مختلف اداروں کی مدد کےلئے نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت کی شناخت اور ملازمت کی فراہمی کی ذمہ داری سونپ دی۔
یہ ملاقات دینی اور علمی حلقوں کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے، جس میں عالم اسلام کی اہم علمی شخصیات نے شرکت کی، اس دوران، دونوں شخصیات نے باہمی تعاون اور حوزہ علمیہ کے فروغ پر بھی زور دیا۔
اسلامی تبلیغی تنظیم کے سربراہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مکتب سید الشہداء علیہ السلام کی ترقی میں خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، مزید کہا کہ خواتین نے بھی واقعہ عاشورا می ثابت کیا کہ وہ تاریخ کے میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان مفکرین اور علماء غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت اور مہم جوئی کے خلاف اپنی حریم کی حفاظت اور دفاع کو قانونی حق سمجھتے ہیں۔
مدرسہ امام خمینی کے ڈیپارٹمنٹ آفقرآن و حدیث کے سرپرست نے پاکستان میں اپنے دورے کے دوران مختلف مدارس جیسے جامعہ المنتظر، اور جامعہ الولایہ کی انقلابی تعلیمات، جدید وسائل اور نظام پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان مدارس کو پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم نعمت قرار دیا اور ان کی اہمیت کو سراہا۔
آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے کہا: حوزہ اور یونیورسٹی ہی معاشرے کو زندہ کرتے ہیں، یہی دونوں مراکز ہیں جو انحرافات کے راستے روکتے ہیں تاکہ لوگ آئمہ علیہم السلام کے راستے پر چل سکیں اور پاکیزہ ہو سکیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے نیوز کانفرنس میں اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔