غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























خداوند نے روزہ اس لیے واجب قرار دیا ہے کہ تا کہ اس کے ذریعے سے انسانوں کے اخلاص کا امتحان لے سکے
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی رمضان کے پانچویں دن کی دعا کے بارے میں فرماتے ہیں: رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا کے اہم ترین نکات میں استغفار کے تقاضوں کو پورا کرنا، امام علیؑ کے کلام کی روشنی میں توبہ کی حقیقت کا ادراک، صالحین کی خصوصیات اور خدا کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں کی وضاحت شامل ہے۔
خداوند نے روزہ اس لیے واجب قرار دیا ہے کہ تا کہ اس کے ذریعے سے غنی اور فقیر کے فرق کو آپس میں مٹا سکے
حقیقی اور مکمل شکر یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کو یاد کرے اور اس کے راستے پر بغیر کسی گناہ کےچلے اور اس کے حکم کی تعمیل کرے۔
اللهمّ قَرّبْنی فیهِ الی مَرْضاتِکَ و جَنّبْنی فیهِ مِن سَخَطِکَ و نَقماتِکَ و وفّقْنی فیهِ لقراءةِ آیاتِکَ برحْمَتِکَ یا أرْحَمَ الرّاحِمین۔
عَلَيكُم في شَهرِ رَمَضانَ بِكَثرَةِ الاِستِغفارِ و الدُّعاءِ
لما سئل الامام الصادق علیہ السلام عن علۃ تسمیۃ القائم بالمہدی، قال ” لانہ یھدی الی کل امر خفی”
يَابْنَ الْمَهْزِيارِ! لَوْلاَ اسْتِغْفارُ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ، لَهَلَكَ مَنْ عَلَيْها، إلاّ خَواصَّ الشّيعَةِ الَّتى تَشْبَهُ أقْوالُهُمْ أفْعالَهُمْ۔
اوَّلُ مايُحاسَبُ بِهِ الْعَبْدُالصَّلاةُ، فَانْ قُبِلَتْ قُبِلَ سائِرُ عَمَلِهِ وَ اذارُدَّتْ، رُدَّ عَلَيْهِ سائِرُ عَمَلِهِ