صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ جمعہ اسدی کی رحلت پر علمائے کرام، سیاسی و سماجی حلقوں، سیاسی کارکنان اور مختلف طبقات کیجانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سرپرست مدرسہ علمیہ حضرت امام العصر عج فاؤنڈیشن حیدرآباد سندھ حجۃ الاسلام کرم علی حیدری المشہدی نے کہا کہ محمد علی سدپارہ جس نے نہ صرف ملک عزیز پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا بلکہ اس نے ہر مقام پہ اہلبیت علیہم السلام سے بلاخص سید الشہداء محسنِ انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اپنی خصوصی محبت اور عقیدت کا اپنے ملک عزیز پاکستان اور دیارہائے غیر میں اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سدپارہ قوم کے عظیم، بہادر اور نڈر سپوت تھے جو کوہ پیمائی کی دنیا میں وطن عزیز کے نام کو روشن کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے دیدہ دلیری کے ساتھ کےمنزل کے متلاشی رہے۔اس طرح کی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔
انکا مزید کہنا تھا ایسے قومی ہیروز صدیوں بعد جنم لیتے ہیں انکی اھلبیتؑ سے خصوصا محافظ شریعت حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی مثال آپ تھی انہوں نے امام کے فرمان پہ عمل کیا وطن سے محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے5رجب المرجب کو دسویں امام حضرت علی نقی ؑ کے یوم ولادت کے موقع پر کہاہے کہ حضرت علی نقی الہادی ؑ نے انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں دین اسلام کی حفاظت اورترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ جہاں انفرادی اور ذاتی زندگی میں انسانوں کی رہنمائی فرمائی وہاں اجتماعی طرز زندگی اور نظام حکومت جیسے معاملات میں بھی لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کوہ پیما علی سدپارہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ان کے لواحقین سے تعزیت کی ان کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ پاکستان کا ہیرو ہے ان کی وطن سے محبت قابل فخر ہے۔
وفاق والمدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ افضل حیدری نے قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو محمد علی سدپارہ کی غیرمعمولی کارکردگی پر فخر ہے، انکی ملک کیلئے کامیابیوں کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائیگا۔
امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مرحوم محمدعلی سدپارہ بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیماہونےکےساتھ ساتھ ایک محبِ وطن انسان تھے۔امیدکرتاہوں کہ اپنےعلاقہ کی ترقی کاجوخواب انہوں نےدیکھاتھاوہ ان کی خدمات کےصلہ کےطورپرحکومت ضرورپوراکرےگی۔
انہوں نے کہا کہ محمد علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ کو سول اعزازت سے نوازے جائیں گے۔ وفاقی حکومت کو اسکردو ائیر پورٹ کا نام محمد علی سدپارہ سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور ان کے نام سے کوہ پیمائی کے لئے اسکول قائم کیا جائے گا۔
پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی میں مصروف تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔