صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
انسان جس دنیا میں رہتا ہے اگر اسے مقصد اور ہدف زندگی سمجھ بیٹھے تو جتنی دنیا زیادہ ملے گی اتنا خوش ہوگا اور خود کو کامیاب انسان سمجھے گا۔
ٹال مٹول کام میں رکاوٹ بنے گی اور اس شخص، یا اس گروہ بلکہ اس سربراہ کو بھی ناکامی کا سامنا ہوگا۔
سمجھدار انسان وہی ہے جو دوسروں سے سیکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا بلکہ وہ تلاش میں رہتا ہے کہ کسی سے سیکھوں۔ احادیث میں آیا ہے کہ مومن علم کو اپنی گمشدہ میراث سمجھتا ہے، منافق سے بھی ملے تو لے لیتا ہے۔
علامہ مامقانی نے اپنی کتاب رجال میں زینب صغری کی کنیت ام کلثوم بتائی ہے اور یہ لکھا ہے کہ آپ اپنے بھائی کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور امام سجاد کے ساتھ شام اور پھر مدینہ تشریف لے گئیں۔
سعادت و کمال کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ان راہوں کے خطرات سے آگاہ ہونا لازم ہے تاکہ ان خطرات سے بچ کر منزل تک پہنچا جا سکے۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس فرمان میں دو اہم خطروں سے آگاہ فرمایا ہے۔ ایک خواہشات کی پیروی اور دوسرا لمبی امیدیں۔
آپ کا درس تفسیر اتنا جامع ہوتا تھا کہ ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا معلوم ہوتا تھا۔ اعتقادی عمیق مسائل کی گتھیوں کو خوبصورت مثالوں سے سلجھانا آپ ہی کا خاصہ تھا۔ آپ اپنے اکثر دروس کے دوران میں کہا کرتے تھے کہ یہ علمی نکات فقط آپ طلبہ سے شئیر کر رہا ہوں لیکن میں نے ان مباحث کو اپنی تفسیر میں نہیں چھیڑا ہے۔ کیونکہ ایسی بحثیں عوام کی فہم و فراست سے بالاتر ہیں۔
انسان کے کمال تک پہنچانے میں رہبروراہنما کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ کامیاب راہنما سب سے پہلے یہ ثابت کرتا ہے کہ میں کامیاب ہوں تب ہی لوگ اسے راہنما مانتے ہیں۔
آج کے دور میں جب فلسطین،پاراچنار، کشمیر اور لبنان میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں، تو ہم سب پر فرض ہے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے مظلوموں کے حق میں عملی اور اخلاقی کردار ادا کریں