یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























رہبر عظیم الشان حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخسن ۱۳۱۸ھ ش مطابق۲۸ صفر۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے شادی کے بعد جس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔
اے احمد مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم؛ کوئی ایسا عبد نہیں جس نے میرے لیے چار خصلتوں کی ضمانت کی ہو اور میں اس سے جنت میں داخل نہ کروں (یعنی اگر کوئی شخص ان چار صفتوں کو اپنے اندر پیدا کرے اللہ اسے ہر صورت میں جنت میں داخل کرے گا)
ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگانے والے ممالک، دراصل اس کی خودمختاری، جوہری ترقی اور سامراج کے خلاف مقاومت سے خائف ہیں
آج کے دور میں اسلام دشمن عناصر سازش کے تحت مسلم خواتین کو آلہء کار کے طور پر استعمال کر ریے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آج كل كی عورتيں بھی modrenism کے شوق میں ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہیں ایک جانب تو مغربی ممالک کی پیروی کرتی ہوئی نظر آتی ہيں اور دوسری جانب مسلمان ہونے كا دعوا بھی کرتی ہیں۔
آپ کو ابتداء سے ہی دینی علوم سے بہت دلچپسی تھی لہذا میٹرک پاس کرنے کے بعد آپ لاہور گئے اور پاکستان کے مشہور و معروف شیعه مدرسه جامعه المنتظر میں دینی علوم کا آغاز کیا
اے احمد اگر اپ چاہتے ہیں سب لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں تو دنیا میں زاہد ہوں (یعنی دنیا کی چیزوں سے دلبستگی نہ ہو) اور اخرت کی طرف رغبت پیدا کریں۔
9 نومبر، یومِ حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران کو علامہ اقبال کی تصاویر اور اشعار پر مشتمل بینرز سے سجایا گیا ہے۔
آج کی وہ تمام خواتین جو دین اور امام وقت کے ظہور کے لیے زمینه سازی کر رہی ہیں۔۔ وہ سب زینبی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اور ہمارا بھی فریضہ ہے کہ ہم بھی کردار زینبی ادا کرنے والوں میں شامل ہو جائے
حضرت زینبؑ کے شعلہ ور خطبوں کو طبرسی، علی ابن طاووس، علامہ مجلسی، عبد اللہ بحرانی، سید محسن امین عاملی اور احمد علی شبلی اور دیگر کافی دانشمندوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیاہے۔[ طبرسی،الاحتجاج،ج۲،ص:۲۹؛ طاؤوس،اللھوف، ص۱۷۶، مجلسی بحار الانوار،ج۴۵،ص:۱۰۹و ۱۶۵]