صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























محرم کا مہینہ اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے۔
انسان جسم و اعضاء کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں۔ یہ جسم کسی انسان کو بلند یا پست نہیں کرتا بلکہ حقیقت میں انسان کی فکر اور اس کا عمل ہے جو اسے دوسرے انسانوں سے بڑھاتا یا گھٹاتا ہے۔
اللہ سے اس کے بندوں اور اس کے شہروں کے بارے میں ڈرتے رہو۔اس لیے کہ تم سے زمینوں اور چوپایوں کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔
حضرت عباسؑ کا بے مثال کردار وفاداری کی معراج اگر دنیا میں وفا کو کسی نے عملی شکل میں دیکھنا ہو، تو اسے کربلا میں حضرت عباسؑ کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
اس خطبے میں امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہدایت کرنے والی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں اچھائیوں اور برائیوں کو کھول کر بیان کیا ہے
کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے ۲۸ رجب کو سفر اس لئے کیا کہ یزید کی بیعت کے انکار کے بعد کوئی چارہ کار نہیں تھا، لہٰذا آپ نے خاموشی کے ساتھ مدینہ کو ترک کر دیا کہ یزید کی بیعت کا سوال یزید کی طرف سے ہو چکا تھا اور مدینہ میں رہنا آپ کے لئے خطرہ سے خالی نہیں تھا
امیرالمؤمنینؑ نے ان دو جملوں میں دو مشہور مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ یہ مثالیں قرآن میں بھی دوسرے الفاظ میں بیان ہوئی ہیں اور انبیاء و حکماء نے بھی مختلف الفاظ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔
انسان کی زندگی میں کبھی غم تو کبھی خوشی، کبھی فقر تو کبھی دولت کی دھوپ چھائوں رہتی ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ اُسے دیا جائے تو راضی اور ساری زندگی دینے کے بعد مختصر وقت کے لیے روک لیا جائے تو شکوہ و شکایت۔
قرآن کی تعلیمات کے مطابق گھاٹے سے وہی انسان بچ سکتا ہے جو اپنے عقیدہ و ایمان کے ساتھ دوسروں کو بھی حق و حقیقت کی وصیت کرتا ہے، اگرچہ اس راہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انجام دینے والے کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
انسان کا انسان سے برتاؤ اس کی فکر کا عکاس ہوتاہے۔ اگر کوئی انسان دوسرے انسان کی عزت و احترام کا قائل ہے تو یہ خود اس کے معزز و مکرم ہونے کی نشانی ہے اور اگر دوسرے کی اہمیت و عظمت کا قائل نہ ہوگا تو یہ خود اس کے کم ظرف ہونے کو ظاہر کرے گا