مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں حسن اتفاق ہے کہ پاکستان 27 رمضان المبارک کو قائم ہوا ، اسلامی تقویم کے لحاظ سے یوم پاکستان یعنی یوم آزادی 27رمضان المبارک ہے،آ ج کا دن ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی، فلاحی اورجمہوری ریاست بنانے کےلئے کردار ادا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ زکوٰة فطرہ کا استحقاق وہ شخص رکھتا ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں اور اس کاکوئی روز گار بھی نہ ہو جس کے ذریعے وہ اپنے اہل و عیال کا سال بھر خرچہ پو را کر سکے جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے ،نیز فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں (البتہ فطرہ دینے کےلئے ترجیح غریب ترین رشتہ دار یااپنے شہر والوں کو دی جائے )
وزیراعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کے تدارک اور فلسطین کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے افغانستان کے شہر کابل میں شیعہ ہزارہ کے تعلیمی مرکز سید الشھدا سکول پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ اب تک سید الشھداء سکول میں شہید ہونے والی طالبات کی تعداد بہتر سے زائد ہوچکی ہے جبکہ 150 زخمی ہیں ظلم و بربریت کے اس واقعے نے سانحہ اے پی ایس پشاور کی یاد دلادی دشمن معصوم بچوں کا قتل عام کر کے باشعور قوم کی تشکیل کو روکنے کی سازش کر رہا ہے ایسے اندوہناک واقعات کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرنی چاہیے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے فلسطین میں نمازیوں اور افغانستان میں تعلیمی ادارے پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، عالمی اداروں کو متوجہ کرتے ہوئے ظلم کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کابل میں شیعہ ہزارہ کے تعلیمی مرکز سیدہ الشہداء پر خود کش حملےکی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہا کہ چالیس سے زائد معصوم طلباء کو کو لقمہ اجل بنا نے والے انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔
لیاقت بلوچ نے جامع مسجد الاعلیٰ اچھرہ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں فلسطینیوں کی حمایت میں جوش و خروش کا جذبہ عالم اسلام کی بیداری کی علامت ہے۔ اسرائیلی جارحیت کیخلاف فلسطینی عوام کا عزم ناقابل شکست ہے۔
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔
تحریف لفظی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں میں کمی و بیشی کرنا ہے جبکہ تحریف معنوی سے مراد آسمانی کتابوں کی آیتوں اور عبارتوں کی غلط تفسیر و تاویل کرنا جسے اصطلاح میں تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیتوں میں اضافہ نہ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ شیعوں کی اکثریت کا نظریہ ہے کہ قرآن کریم میں تحریف لفظی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا