صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر حسن عارف نے آئی ایس او ملتان کے پروفیشنل ادارہ بہائوالدین زکریایونیورسٹی ملتان کا دورہ کیا۔
اجلاس میں موجود وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔قرضوں کی بروقت ادائیگیاں کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے حکومتی معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ معیشت کو مستحکم اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالے ظلم و جبر کی داستانیں انسانی حقوق کے زمرے میں کیا نہیں آتیں؟
اہل تشیع رکن سید حسنین عباس گردیزی کی جگہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ محمد اسلم ترین کی جگہ حافظ عمار یاسر اور فیض بخش رضوی کی جگہ ناظم الدین کو ولنٹیئر رکن مقرر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلہ میں اللہ کا نظام ہے جو بنی نوع آدم کو حقیقی انسان بنانے کے لئے متعارف کیا گیا ہے۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان جنگ جاری ہے. پاکستان میں قومیت، لسانیت اور فرقہ واریت کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی پالیسیز کو نافذ کیا۔
انہوں نے کہاکہ انسان ایک لامتناہی موجود ہے اور اس کا وجود روحانی اور ہمیشگی ہے؛ اگر کوئی اس اہم بات پر توجہ رکھے، تو اس کو یہ چند روزہ دنیا بہت کم اور چھوٹی لگے گی؛ لہذا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہیے کہ اس چند روز کی دنیا میں کس محاذ پر قدم رکھا جائے؛ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے راستوں پر یا شیطانی نیتوں کے راستوں میں.
انہوں نے علامہ نجفی کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور علامہ نجفی کو قوم کے لیے سرمایہ قرار دیا۔ علامہ ڈاکٹرشبیرحسن میثمی کے ہمراہ وفد میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہدعلی آخونزادہ،سید رفعت زیدی، دانش زاہدی اور محسن شیدائی موجود تھے.
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ افسوس ہے کہ75 سال سے قوم کو ایک شناخت نہیں مل سکی، قومی زبان ”اردو “ کے نفاذ میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر روڑے اٹکائے گئے ، آئین کا آرٹیکل251 واضح ہے مگر اس کے نفاذ میں مسلسل گریز کیا جاتا رہا 2015ءمیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاریخی فیصلہ بھی سنادیا مگر اس کے باوجود قومی زبان اردو کو اس کا جائز حق نہیں مل سکا۔
لامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہم مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے شیعہ بھی ہیں اور مکتب اہل بیتؑ کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے عقیدہ کے انتخاب کا پورا حق حاصل ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح کسی دوسرے مکتبِ فکر اور مسلک کے پیروکاروں کو اپنے عقیدہ کے چناؤ کا حق حاصل ہے۔