صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























امام عـلى عليه السلام فرماتے ہیں زَكاةُ الجـَمالِ العِفـافُ خوبصورتی کی زکات عفت اور پاکدامنی ہے۔ غررالحكم، ج4، ص105
ادارہ التنزیل کے سربراہ ڈاکٹر سید علی عباس نقوی نے تدبر قرآن اور تدبر و تفسیر میں فرق بیان کیا اور تدبر قرآن کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔
سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے کہا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور دنیا میں خاصکر امت مسلمہ میں اس کا ایک مقام ہے جس وجہ سے کفریہ اور شیطانی طاقتیں ہر وقت سازشوں میں مصروف رہتی ہیں گذشتہ تیس پینتیس سال میں وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے لئے تکفیر، فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دی گئی مگر ہر مسلک کے علمائے کرام اور جیّد قیادت نے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اس ناپاک سازش کو ناکام بنایا۔
انکا کہنا تھا کہ امام خمینی (رہ) اس صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں، جنہوں نے علم و شعور اور عمل و کردار کے ذریعے مسلمانوں کی صحیح خطوط پر رہنمائی کرکے پیغمبرانہ فریضہ انجام دیا اور عوام کو اسلامی انقلاب کے ذریعے اسلام کی صحیح اور آئیڈیل تصویر دکھائی، جس کے اثرات آج بھی عالم اسلام میں بالعموم اور مملکت ایران پر بالخصوص نظر آتے ہیں۔
آپ ﷺ کی بیٹی کے لئے یہ شفقت اور محبت قیامت تک والدین کے لئے کلمہ نصیحت ہے کہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے ان کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔ بیٹیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی جائے۔
گذشتہ صدی کے آئینہ میں براعظم ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس تمام عرصہ میں انقلابی فکر اور قیادت نے خصوصاً مسلمانوں کو ایک نئی کیفیت سے آگاہ کیا۔ برصغیر اور خلافت عثمانیہ کے واقعات نے گذشتہ صدی کے اوائل سے ہی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا.
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے انقلاب اسلامی ایران کی 42 ویں سالگرہ کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، اور ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینی نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلووں سے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ جس طرح رحمت اللعالمین کے انقلاب کا سرچشمہ صرف غریب اور کمزور لوگ تھے.
قائد انقلاب اسلامی نے عراقی نوجوانوں کے نام ایک خط تحریر کر کے انکے ساتھ اظہار محبت کرتے ہوئے انہیں ایک تابناک مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ عراق کے السیاسہ ٹیلیگرام چینل نے قائد انقلاب اسلامی کا یہ خط شائع کیا ہے جو ۲۱ جنوری کو تحریر کیا گیا تھا۔
انقلاب اسلامی کے عظیم بانی امام خمینی (رح) کی پیرس سے جلاوطنی کے بعد ایران آمد سے ایرانی قوم میں ایک نئی روح پھونکی گئی اور انھوں نے صرف 10 دن کے اندر ایک ظالمانہ بادشاہت کا خاتمہ کردیا۔