صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























کرم بھر میں عشرہ شہدائے آزادئ فسطین، کشمیر، شہدائے حرم زینبی اور شہدائے کرم کے عنواں سے درجنوں پروگرامات منعقد ہوگئے۔ جن میں سے کنج علی زئی، شاخ دولت خیل، ابراہیم زئی، علی شاری، کڑمان، پیواڑ، لوئر علی زئی، بالش خیل دوراوی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
شاعر مشرق ،مصور پاکستان حضرت علامہ اقبال ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔آپ کے سامنے ایک محکموم قوم دنیا کے مکار ترین استعمار کے تسلط میں تھی،امت مسلمہ کا برا حال تھا مسلمان ہر جگہ غیروں کے محکوم تھے۔اسلامی تہذیب قصہ پارینہ بننے کے خواب دیکھے جا رہے تھے ،ہر طرف معذرت خواہانہ رویہ اپنا جا رہا تھا ۔
مارک لوکاک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ امریکہ سے باقاعدہ درخواست کریں گے کہ وہ یمنی حوثی ملیشیا کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ بدل دیں کیوں کہ اس فیصلے کی وجہ سے ملک ایسی بھیانک قحط سالی سے دوچار ہو جائے گا، جو گزشتہ تقریباً 40 برس میں دنیا میں کہیں نظر نہیں آئی۔
وفد میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ شبیر حسن میثمی، شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی، علامہ جی ایم کراروی، علامہ کامران عابدی، علامہ عابد رضاعرفانی اور جناب زوالفقار رضوی شریک تھے۔
مسجد اقصیٰ ایک ایسا مقام ہے کہ جو عالم اسلام کے لئے بیت اللہ اور مسجد نبوی کے بعد اہم ترین مقام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ وہی مقام ہے کہ نبی کریم (ص) رخ فرما کر عبادت کرتے رہے ۔ یہ مقام ایسی مبارک اور مقدس سرزمین پر واقع ہے جس کو فلسطین کہتے ہیں اور فلسطین کو انبیاء و اسریٰ کی سرزمین کہا جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے کہ جس کے بارے میں مسلمانوں کی آسمانی کتاب یعنی قرآن مجید میں ذکر ہو اہے جس کا مفہوم اس طرح سے ہے کہ، ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ‘‘ ۔
یہ ایام عصمت کبری حضرت فاطمہ زہرا کی شہادت کے ایام ہیں، وہ پاک اور مقدس ذات جو ام ابیھا بھی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی ماں بھی ہے۔وہ فاطمہ کہ جس کی مرضی پیغمبر اکرم کی مرضی ہے اور پیغمبر کی مرضی خدا کی رضا ہے، جس کا غضب پیغمبر کا غضب اور پیغمبر کا غضب خدا کا غضب ہے۔وہ فاطمہ جس کی مادری پر ہمارے آئمہ ، جو عالم انسانیت کے کامل ترین افراد ہیں
ضلع بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مولانا قاری ظفر حسین حیدری مختصر علالت کے بعد آج صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں اجلاس عاملہ کے بعد مرکزی صدر کی سربراہی میں مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکا نے سال رواں کواحیائے علم و عمل و استحکام تنظیم کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے ۔
کوہ امام ضامن جسے کوہ امام پہاڑی بھی کہا جاتا ہے ، اموگوڑہ ، سنیک پوری میں واقع ایک 462 سالہ قدیم خوبصورت درگاہ ہے ۔ مقامی لوگوں اور کسی بھی مذہب کے عقیدت مندوں کے لیے قدرتی پہاڑی کے درمیان یہ صاف ستھری اور نفیس درگاہ بڑی سکون کی جگہ ہے جہاں انہیں بڑا روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ تمام مذاہب اور عقیدوں کے لوگ صدیوں سے کوہ امام ضامن آرہے ہیں ۔