صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























آیۃ اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی نے مرکزی دفتر نجف اشرف میں مدرسہ الحکمۃ کے طلاب علوم دینیہ سے خطاب میں کہاکہ حوزوی و دینی تعلیم کی ابتداء تو ہے لیکن اسکی انتہا نہیں ہے ۔
ان کا نام فاطمہ اور کنیت ام البنین ( بیٹیوں کی ماں) تھی۔ ان کے ماں باپ بنی کلاب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو پیغمبر اسلام (ص) کے اجداد تھے۔ ان کے باپ حزام اور ماں ثمامہ یا لیلی ہیں۔ ان کے شوہر علی بن ابیطالب (ع) اور ان کی اولاد عباس ، عبد اللہ، جعفر اور عثمان ہیں کہ چاروں بیٹے سر زمین کربلا میں امام حسین (ع) کی رکاب میں شہید ہوئے۔ حضرت ام البنین (ع) کی آرام گاہ، مدینہ منورہ میں قبرستان بقیع میں ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقبل خطرات سے دوچار ہے، اگر اسلام کو چھوڑیں گے تو ملک کا شیرازہ بکھرے گا، ملک کے بحرانوں کا حل قرآن و سنت کی بالادستی ہے، ہم نے قرضوں سود کی لعنت کا راستہ اختیار کیا، دنیا سے کشکول کا راستہ اپنایا خود کو اغیار کی دہلیز کے سامنے جھکا دیا جس کی وجہ سے ورلڈ بینک ہماری تہذیب مسجد و محراب پر غلبہ پا چکے ہیں۔
چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
اس موقع پر حجة الاسلام شیخ محمد رضا بہشتی نے کہاکہ پورے ملک میں جہاں جہاں قدرتی آفات اور مساٸل سے شہری دوچار ہوے قاٸد محترم کے دست شفقت شامل حال رہے۔
پاکستان میں ایرانی ثقافتی قونصل جنرل اور بورڈ آف چرچز آف پاکستان کے درمیان جمعرات کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں ثقافتی تعاون، بین المذاہب تعامل اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تعلقات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تنظیمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ پاکستان میں تشیع کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے ہمارا اتحاد ضروری ہے، جب تک ہم متحد نہیں ہونگے، دشمن اپنی سازشوں میں مصروف رہیگا۔
نجف اشرف میں کام کرنے کا جو موقع آپ کو ملا ہے در حقیقت یہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت کا آپ کو موقع ملا ہے
اسلام آباد میں علامہ ساجد نقوی کی رہائشگاہ پر ہونیوالی ملاقات میں ملی یکجہتی کونسل کے وفد میں جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی قائدین پیر سید صفدر حسین گیلانی اور ڈاکٹر انجم عقیل قادری شامل تھے، جبکہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔