غدیر؛ تاریخ سے بالاتر اور اعتقادی و تمدنی پہلووں پر مشتمل ایک واقعہ
























عقلی اور نقلی (قرآن و احادیث) دلیلوں کی بنیاد پر ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے بارہ امام علیہم السلام سب کے سب انسان کامل، اللہ کی جانب سے معصوم امام ہیں، ان کا علم لدنی ہے، وہ زمین کے وارث اور تمام مخلوقات پر اللہ کی حجت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خدا سے عشق کریں اور جب یہ عشق بڑھ جائے تو دعائیں مانگنا بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ انسان ابتداء میں دعا سے شروع کرتا ہے لیکن جب عشق بڑھ جائے تو پھر بندہ خدا کی رضا میں خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے ہم جو کچھ بھی مانگیں وہ محدود ہے تو بندہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے تو خدا بھی اسے لا محدود عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئمہ اطہار علیہ السلام نے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق حکمت عملی اختیار کی جب کہ سب کے مقاصد یکساں تھے۔امام باقر علیہ السلام کے دور میں بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان مملکتی چپقلش رہی ۔یہ حالات امام برحق کے لیے اس اعتبار سے سازگار تھے کہ انہیں عوام کے علم و تربیت کے بہترین مواقع میسر آئے۔جس سے ہزاروں لوگ فیضیاب ہوئے۔
آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولیدوالی مدینہ کی زہرخورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلودزین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی (جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۸) ۔