مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کے بیان کا آغاز ابتدائے خلقت سے ہوا ہے اور کربلا کا سب سے پہلا مصائب خود خدا نے پڑھا ہے۔ پورا دین واقعہ کربلا میں متجلی ہے۔ اس لیے امام حسین علیہ السلام ملک و ملکوت میں جگمگاتے ہیں۔
تفضیل مولائے متقیان کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو قرآن کریم نے آیہ مباہلہ میں نفس رسول کہاں ہے یعنی جان رسول، رسول جیسا خالق جب اپنی مخلوق کی بات کرتا ہے اور خالق جب اپنی مخلوق کے فضائل اور مناقب کو بیان کرتا ہے تو سب سے عظیم مخلوق کے جس کا حق ہے کہ اللہ اُس کی تعریف کرے اُسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا علی علیہ السلام کہا جاتا ہے۔
نائب خاص کے ذریعے فیض: لوگوں کو غیبت کے زمانہ میں داخل ہونے کے لئے تیار اور آمادہ کرنے کے لئے یہ آخری راستہ تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام ٢٦٠ھ قمری میں شھید ہوئے اور امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز ہوا اور ساتھ بھی ان کی غیبت کا زمانہ شروع ہوا تو بزرگان شیعہ سے چارافراد کا ترتیب کے ساتھ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف کے خاص نائب کے عنوان سے تعارف کروايا گيا اور یہ لوگ تقریبا ٧٠ سال تک لوگوں اور امام کے درمیان رابطہ کاذریعہ رہے۔
عراق کے وزیر خارجہ ڈاکٹر فواد حسین کا کہنا تھا کہ عراق پاکستان کو ایک اہم ملک سمجھتا ہے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بالخصوص تجارت، ثقافت اور دفاع میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کورونا وائرس کی نئی لہر کی تیزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عزاداروں کو مجالس عزا میں طبی دستورات پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے۔
کربلا کے مختلف علاقوں میں ہیلتھ گروپ کام کررہے ہیں جنمیں موبائل ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
مام رضا علیہ السلام نے ریان بن شبیب سے فرمایا کہ اگر آپ کسی چیز کے لئے رونا چاہتے ہیں تو امام حسین علیہ السلام پر روئے کیونکہ جب انسان کے آنسو امام حسین علیہ السلام کی یاد میں،اس کے رخسار پر جاری ہو جائے تو خداوند اس کے تمام چھوٹے اور بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
عاشورائی پیغام اور خصوصا اہداف نھضت حسینی کی تبلیغ میں خطباء منبر حسینی کے کردار پر بیان فرمایا کہ خطیب کی فکری قابلیت اور اسلوب کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے اور اسی کے ذریعہ خطیب سامعین پر اثر انداز ہوتا ہے اور سامعین کے خدا اور اہلبیت علیھم السلام سے رابطے اور تمسک کو واقعہ کربلاء اور خطبات امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ مزید مضبوط کرتا ہے ،
صدرعارف علوی نے کہا کہ پاکستان نے اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کی نگرانی کیلئے قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی، حکومت پاکستان اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کوششیں کرتی رہی ہے، میثاقِ مدینہ میں بھی تمام مذہبی گروہوں کو یکساں مذہبی اور سیاسی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی، ہمارا مذہب اسلام بھی اقلیتوں کے حقوق کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔