مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























انہوں نے کہا کہ کربلا والے ہمیں اللہ سے قریب کرنے والے لوگ ہیں یہ وہ شخصیات ہیں جو قرب پروردگار کا بڑا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور یہ ممبر حسین کا ہے اور یہاں کسی کو آنے پر پابندی نہیں ہے اگر دین کو ثقافت بنا دیا جائے تو پھر دشمن کچھ نہیں کر سکتا دشمن کا پیسہ ضائع جائے گا اگر دین ثقافت بن جائے اس لیے کہ ثقافتوں کی عمریں بڑی طول ہوا کرتی ہیں۔
چودہ اگست کی مناسبت سے علما نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور آزادی کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے یوم آزادی احترام محرم میں سادگی سے منانے کی درخواست کی اور وطن عزیز کی سربلندی اور ترقی کی دعائیں کی
یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے اہم پیغام میں کہا کہ آج کے دن قومی پرچم لہراتے ہوئے ہمیں ایمان ،اتحاد تنظیم کے پختہ عزم کا اعادہ کرنا چاہئے، ہم نے ایک متحد، پرامن اور پرعزم قوم کی حیثیت سے ابھرنے کے لئے اپنی تاریخ کے سفر میں کٹھن چیلنجز عبور کیے ہیں۔
عوام اپنے آئینی ، بنیادی اور قانونی حقوق سے کسی صورت دستبردار نہ ہوں اورعزاداری سیدالشہداؑ حسب ِ سابق عقیدت و احترام سے منائیں۔
اس بات میں توکسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ اس ملک کے شہری کی حیثیت سے عزاداری نہ صرف ہماراقانونی حق ہے بلکہ دینی حوالےسے ایک مکمل شرعی فریضہ ہےجس سے کوتاہی کسی طور بھی برتی نہیں جاسکتی ۔
شیعہ علما ءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدرسبزواری نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہداءملت جعفریہ کی پہچان ہے ۔ اپنی شناخت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ گزشتہ چار سال سے عزاداری کو مشکل بنایا جا رہا ہے ۔
اگر جینا ہے تو اُن سے جڑ جائیں جو مرے نہیں ہیں چودہ سو سال بعد بھی ان دنوں اُن کی یاد ان کے غم ان کے ذکر میں اتنے بڑے بڑے اجتماعات صرف پاکستان ہی میں نہیں پوری دنیا میں ان کی حیات ابدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو امام مظلوم سے آخر وقت تک جڑے رہے وہ بھی حیات جاوداں پا گئے۔
ماہ محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو برپا ہونے والی یہ عزاداری اپنی اسی خصوصیت کی بنا پن عالمی میڈیا اور مختلف عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس سال دنیا بھر میں ۵۵ ممالک میں تقریبا سات ہزار تین سو سے زیادہ مقامات پر برپا ہو رہی ہے، اور ہر سال اس میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔
میرا پسندیدہ مضمون حفظ قرآن کے بعد قرآن مجید رہا ہے اور تفسیر وغیرہ لیکن زیدہ تر منطق اور فلسفہ کو میں کافی محبت سے پڑھا کرتا تھا