صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























انہوں نے جناب سیدہ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیرت کے روشن پہلووں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے کردار و گفتار کو آراستہ کریں۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہمارے ہاں فکری اور نظریاتی تربیت کا فقدان ہے لہذا ہمیں اس طرف زیادہ متوجہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان مضبوط ہوں۔ نوجوانوں کو تنظیمی بنانے سےزیادہ تربیت یافتہ بنانے کی ضرورت ہے، یعنی تربیت کے نتیجہ میں ایسے نوجوان سامنے آئیں جو حقیقی معنوں میں موحد بھی ہوں اور علیؑ کے شیعہ بھی۔
"ولقد کانت مفروضۃ الطاعۃ، علی جمیع من خلق اللہ من الجن والانس والطیر والوحش والانبیاء والملائکۃ”
لامہ شبیر حسن میثمی نے علاقے کے علمائے کرام اور معززین سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت پر زور دیا کہ ممتاز المدارس کا شمار پاکستان کے ممتاز مدارس میں ہوتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم کے فروغ اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے عصری تقاضوں اور قومی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
نئے سال کے لیے آئی ایس او کے سالانہ پروگرام اور تنظیمی ترجیحات سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ دو روزہ ورکشاپ میں مدیر البصیرہ سید ثاقب اکبر نے تنظیمی موقف اور معاشرے کا جائزہ لیکر تجزیہ و تحلیل کر کے رائے قائم کرنے سے متعلق گفتگو کی۔
حقیقی عاشقانِ رسولؐ، ان کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا، نفسِ نبی (امام علی علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں امام حسن و امام حسین علیہم السلام کو اپنے قلوب کی چراغ سمجھتے ہیں۔ تمام جلیل القدر صحابہ اور ساتھی ہمارے نزدیک محترم ہیں تاہم فضیلت کے معاملہ میں ان کا مقابلہ نبیؐ و آلِ نبیؐ سے نہیں کیا جا سکتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مغرب پر فریفتہ رہنے کے کلچر اور انگریزی الفاظ کے استعمال کو بھی معاشرے میں رائج غلط ثقافتی رجحان قرار دیا اور کہا کہ اسلامی انقلاب آنے کے بعد یہ رجحان تبدیل ہوا اور مغرب پر تنقید کا کلچر رائج ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعجب ہے ان مسلمان صحافیوں اور دانشوروں پر جو ایران میں پردہ کے خلاف استعماری تحریک کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں کہ اس وقت ایران میں پردہ نہ کرنا مزاحمت کی علامت ہے ، یہ ایران کے نظام سے نہیں اللہ، رسول ص اور قرآن سے جنگ ہے۔
بلوچستان کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہماری تمام تر ہمدردیاں بلوچ عوام کے ساتھ ہیں،ریاست پاکستان عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے سنجیدگی دیکھائی نہیں دے رہی ۔