صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی نے مدرسہ کے دورے کے دوران اساتید اور دیگر شخصیات سے بھی ملاقات کی دینی تعلیم، علاقائی و قومی مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
امامیہ میڈیکس انٹرنیشنل کے ڈاکٹر دلبر سعید نے کہا کہ نئے پراجیکٹ میں تمام جدید ترین میڈیکل سہولیات ہوں گی جو کہ ایک بڑے عالمی معیار کے ہسپتال میں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کراچی میں گلستان جوہر کے علاقے قائم کیا جارہا ہے کیوں کہ بہت جلد یہ علاقہ کراچی کا ایک مرکز تصور کیا جائے گا اور ایسے علاقے میں موجود سہولت سے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد فیضیاب ہوسکے گی۔
تمام تر قلت وسائل کے باوجود، گذشتہ 4 ماہ سے ملک کے طول و عرض میں بالخصوص سندھ و بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں سرگرمیاں جاری ہیں اور رضاکاران اور کارکنان شب و روز امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں
اکیڈمک بلاک کا سنگ بنیاد چئرمین زہرا اکیڈمی علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی اور بزرگ عالم دین اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سابق رکن علامہ افتخار نقوی نے رکھا۔
انہوں نے اپنے پیغام میں آیت اللہ سید صادق روحانی کی وفات پر امام زمانہ (عج)، حوزہ علمیہ قم، مرحوم کے لواحقین، شاگردوں اور عقیدتمندوں کو تعزیت پیش کی۔
انہوں نے سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شخصیت اور مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ خداوند متعال کی بارگاہ میں اہمیت اور مرتبہ کے اعتبار سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ہستی ہمارے علم و فہم سے بالا تر ہے، تاہم کلامِ خدا، کلامِ رسول و آئمہ اطہار علیہم السلام ملاحظہ کرنے سے بی بی کے مقام کو سمجھنا کسی حد تک ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں استاد قتل ہونے لگیں بے گناہ اور طالبعلموں کو مار دیا جانے لگے بے گناہ وہ معاشرہ انسانی معاشرہ نہیں رہتا وہ درندوں کا اور جنگلی معاشرہ ہو جاتا ہے ۔پاکستان کی تاریخ کے جو دہشگردی کے واقعات ہیں ان میں سب سے زیادہ ظالمانہ حملہ اے پی ایس کا تھا جس میں معصوم بچے جو تحصیل علم کےلئے گھروں سے نکلے تھے اس جگہ مار دیئے گے جہاں وہ علم حاصل کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحیفہ سجادیہ کا ضرور مطالعہ کیا کریں چونکہ یہ زبور آل محمد ہے اور صحیفہ سجادیہ گویا تفسیر قرآن ہے جس میں توحید، علم خداوندی اور قدرت کو خوبصورت انداز میں بیان کیاگیا ہے۔
آیۃ اللہ سید محمد صادق روحانی آیت اللہ حاج سید ابوالقاسم خوئی نور اللہ مرقدہ الشریف اور مرجع عالیقدر آیۃ اللہ سید محمد حسین طباطبائی بروجردی کے شاگردوں میں سے تھے۔