صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























شہید سردار ایک مجاہد اور باوفا انسان ہیں جنہوں نے اس دنیا میں رہ کر بھی نوجوانوں کو ہمت دی اور اب جب اس دنیا میں موجود نہیں تو ان کی وفاداری، ان کی شجاعت، ان کا شوقِ شہادت یعنی ان کی زندگی کا ہر واقعہ جوانوں کو ہمت دیتا ہے۔
کانفرنس سے خطاب میں معروف پاکستانی سنی عالم دین مفتی گلزار نعیمی نے کہاکہ شہداء کی زندگی قابل فخر ہے اور ان کی موت تو قابل رشک ہے،جسے خدا کی آشنائی حاصل ہو جائے وہ خدا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا فخر سمجھتے ہیں۔
بطورِ مثال یہ ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے:۔ ایک مرتبہ شہید نے شام جانا تھا۔ شہید کے مرتب کردہ شیڈول کے خلاف ایک شہید کی والدہ قاسم سلیمانی سے ملنے آگئی۔ پرواز میں صرف تیس منٹ باقی تھے۔ یقیناً شہید ایک عظیم ہدف کیلئے روانہ ہو رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے بعد جناب قاسم سلیمانی کے دوست نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو جہاز کی پرواز پندرہ منٹ لیٹ کروا دیں۔ آپ نے پوچھا کہ جہاز میں کتنے لوگ سوار ہونگے؟
اس احتجاجی اجتماع میں شرکاء نے رہبر معظم انقلاب کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور مذکورہ میگزین اور متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف نعرے لگائے اور مذہبی قیادت اور مقدسات کی بے حرمتی کو ناقابل قبول قرار دیا۔
مولانا تطہیر زیدی نے کہا کتابیں دو طرح کی ہیں۔ ایک قسم وہ ہے کہ جو انسان لکھتا ہے اور جس کے سبب انسان ڈاکٹر، انجینئر، سیاستدان، استاد اور تاجر بنتا ہے اور دوسری قسم کی کتاب وہ ہے کہ جسے ا للہ تعالیٰ بھیجتا ہے جو لاریب کتاب قرآن ہے اور انسان کی ہدایت کے لئے ہے۔
تقریب کے آغاز میں جناب آقائے احسان خزاعی ثقافتی قونصلر سفارت اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد نے خطبہ استقبالیہ دیا اور شہید قاسم سلیمانی کی اسلام کے دفاع کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی کے حوالہ سے شاید دنیا کو بہت سے حقائق کا علم نہیں۔ وہ کوئی افسانوی کردار نہیں، البتہ انہیں کسی ناول کے ایمان دار، بے خوف اور بہادر ہیرو کی حقیقی شکل ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ مردِ مجاہد کہ جس کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عراق کے صدر جلال طالبانی کے ساتھ شہید حاج قاسم کی موجودگی کا سن کر امریکی صدر پر سکتہ طاری ہوگیا۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اصولوں اور بنیادی تعلیمات کو محفوظ رکھتے ہوئے اسلامی انجمنوں کے اپ ٹو ڈیٹ رہنے کو آج کے حالات میں ایک اور ضروری امر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ عدل و انصاف جیسے کچھ اصول اور تعلیمات دائمی اور اٹل ہیں جو ہزاروں سال پہلے سے ہیں اور ان میں فرسودگي نہیں آتی لیکن انصاف کے نفاذ کے طریقے میں تبدیلی اور جدت طرازی کا امکان پایا جاتا ہے۔
رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہراء نقوی کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل کونسل کے فیصلے کے بعد وہ پنجاب اسمبلی میں چودھری پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کے فیصلے پر ایم ڈبلیو ایم غیر جانبدار رہے گی۔ یاد رہے کہ مجلس وحدت مسلمین اس سے قبل کے پی میں بھی تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرچکی