صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























امت مسلمہ کو مسلکی مسائل میں الجھنے کی بجائے اس طرح کی قبیح حرکتوں اور انتہاءپسندی کے خلاف متحد و یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔اور اس قسم کے ناجائز آزادی رائے کا اظہار کرنے والوں کے خلاف شدید احتجاج کرنا چاہیے۔اس اہم ایشو پر یکجا ہو کر سویڈن کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا یہ مسلم ممالک کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔
مملکت خداداد پاکستان اللہ کی عظیم نعمت ہے او ر کسی بھی ملکی ترقی،معیشیت اور امن کی بنیاد پر ہوتی ہے۔بڑی مشکل اور قربانیوں سے ملک میں امن قائم ہوا کہ اچانک ایک بل پیش کرکے ملک کے امن کو تہہ بالا کرنے کی مضموم کوشش ہوئی ہے۔
اسٹین ڈومینیکن اخبار نے اس ملک میں مسلمانوں کی صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ جمہوریہ ڈومینیکن میں رائج مذاہب میں سے ایک توحیدی مذہب (اسلام) ہے، جس کے پیروکاروں کی اس وقت پانچ مساجد ہیں۔
اج رہبر انقلاب کی حمایت منت سمجھ چڑھا کر نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کریں گے تو بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔جو شرائط زمان کے تحت اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں وہ تاریخ کے کوڑا دان کا حصہ بن جاتا ہے۔قرآن مجید میں سبقت کی بات ہوئی ہے۔
امام باقر علیہ السلام سے احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ منقول ہے ایک حدیث میں امام فرماتے ہیں تعلموا العلم فإن تعلمه حسنة و طلبه عبادة علم حاصل کریں کیونکہ علم حاصل کرنے پر جزائے نیک ہے اور اس کی جستجو عبادت ہے وہ امام جس نے اپنی پوری زندگی علم پر صرف کردی تو ان کا یہ جملہ ان کی اہمیت کو بیان کررہا ہے ایک اہل سنت کے عالم کا کہنا ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی وجہ سے قیامت تک ان کی علمی حیثیت کی وجہ سے قریش پر ان کی برتری ثابت رہے گی
علامہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ کوئی بھی مذہب دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، جس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروع ہوں اور دل آزاری ہو، مگر دلی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی معاشرے میں اس مجرمانہ عمل کو یکے بعد دیگرے دوہرایا جاتا ہے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سویڈن میں ہونیوالے توہین قرآن پاک کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہاہے کہ اس سے بڑھ کر کیا انتہاءپسندی ہوگی کہ انسانیت کےلئے رہنمائی کرنیوالی سب سے عظیم الہٰی آفاقی پیغام کی اس طرح توہین کی جائے
سوال1: توہین صحابہ کے بل میں توہین کی سزا اب 10 سال کر دی گئی ہے، جب کہ یہ بل قومی اسمبلی نے منظور بھی کر لیا ہے۔ آپ کی رائے میں اس وقت جب ہم عملی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں، اس بل کو پیش کرنے اور منظور کرنے کی منطق کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ ملک مل کر بنایا تھا اور اب اس مشکل گھڑی میں بھی دشمن کی چالوں کو سمجھتے ہوئے مل کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کے یہ بل ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف کھلی دہشت گردی ہے جو کہ ہرگز قبول نہیں۔