صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























جارح سعودی اتحاد نے عیدالاضحی کے دن یمن کے صوبے صعدہ پر وحشیانہ حملے کئے جن میں رہائشی علاقوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے عرفات کی مسجد النمرۃ میں حج کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اللہ کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اللہ نے فرمایا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو، اللہ نے اپنے اوپر رحم کو لازم کیا۔
7ذی الحج 114ہجری کو حاکم وقت نے حضرت امام محمد باقر(ع) کو زہر دے کر شہید کیا۔ ہر سال کی طرح امسال بھی امام محمد باقر علیہ السلام کے یوم شہادت کے احیاء کے لئے صبح سویرے ماتمی جلوسوں اور عزاداروں کی روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام اور روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام میں آمد شروع ہو گئی تھی جس کا سلسلہ جاری ہے اور عزادار امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کو نویں امام کی شہادت کا پرسہ پیش کر رہے ہیں۔
ملتان میں وکلاء سے ملاقات میں ضلعی سیکرٹری عزاداری سیل کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزاداروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی بجائے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے، عزاداروں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جلد مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی ایک اہم ملاقات ہوئی۔
یوم شہادت امام پنجم کے موقع پر علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ حضرت امام محمد باقر ؑ نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ اپنی پاکیزہ جد امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا، آپؑ کی مسلسل اور پیہم جدوجہد رہتی دنیا تک کی انسانیت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔
ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری امور خارجہ نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک انقلابی ریاست ہے۔ پاکستان کا وجود ایک انقلاب کا مرہون منت ہے جس کی قیادت بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کی۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی کا الوارف ہاوس سے جاری بیان میں کہنا ہے کہ ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں انتظامات کا یہ عالم ہے کہ ذرا سی بارش نے سارے شہر کو فریادی بنا دیا ہے۔
عید اجتماعات کی سکیورٹی کیلئے 35 ہزار سے زائد افسران و اہلکار ڈیوٹی دینگے۔ لاہور میں نمازِعید کے 5 ہزار 278 اجتماعات منعقد ہوں گے۔ عید اجتماعات کی سکیورٹی کیلئے 8 ہزار سے زائد افسران واہلکار سکیورٹی فرائض سرانجام دینگے۔