صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























حجۃ الاسلام ولی اللہ لونی نے کہا کہ شبہات پیدا کرنے اور دشمنوں کی سازشوں کے خلاف منصوبہ بندی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے ، ہمیں صرف اپنے عقائد کے بارے میں شبھہ پیدا کرنے کے انتظار میں نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے تاکہ دشمنوں کی سازشوں اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں۔
لاہور میں خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فارسی سیکھنے والے طالب علموں کی فارسی زبان کو سمجھنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے پیر 24 جنوری 2022ء کو ایک ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں مازیار کی ہدایت کاری میں تیار کردہ ایرانی فلم "حوض نقاشی" کی نمائش ہوئی۔
حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر لاہور کے سینیئر مدرس ، بزرگ عالم دین مولانا سید خادم حسین نقوی صاحب بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔
حاجیہ بانو نے مزید کہاکہ آج کے دورمیں خواتین کو مغربی سوچ نے ذریعۂ معاش بنایا ہے لہذا ہمیں اپنے وقار اور عظمت کو محفوظ رکھنے کی اشدضرورت ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہم اپنی نجی یا معاشرتی زندگی میں درپیش مشکلات و مسائل کو حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی وسیلہ لینے کے بجائے ایسے افراد کے سامنے رکھتے ہیں جن کے سبب ہمارے مسائل مشکلات اور ذہنی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتاہے۔
حجت الاسلام سید شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے وفد کے ہمراہ آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی سے ان کے مرکزی دفتر نجف اشرف میں ملاقات کی۔
اب یہ نہ سمجھئے گا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صرف مسیحی برادری یا شیعہ حضرات تختہ مشق بنے ہوئے ہیں بلکہ آپ ڈیرہ اسماعیل خان کی چھوٹی موٹی خبروں پر نگاہ رکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں سُنّی، شیعہ، مسیحی، وغیرہ کوئی بھی انسان محفوظ نہیں، اگر محفوظ ہے تو صرف اور صرف نامعلوم محفوظ ہے۔
اگر ایک عورت اپنے آپکو اسلام کے صحیح نورانی سانچے میں ڈھال لے تو پورا معاشرہ گلستان کا منظر پیش کریگا۔ ایک عورت کی صحیح تربیت تین خاندانوں کی اعلیٰ تربیت کی ضامن ہے۔
جواد الائمہ اسلامک فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ولادتِ دخت رسول(ص)اور بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کے یوم ولادت کی مناسبت سے ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد ہوا جس میں کثیر تعداد میں علمائے کرام اور طلباء نے شرکت کی۔
یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔