صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے واضح کیاہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہ کرے گی ۔جبکہ شیعہ عقائد کونظر انداز کر کے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کے لئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا۔
اس موقع پر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے نئی انجمن حسینیہ کے اراکین کو مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اور اہم قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
جب ایک شخص الٰہی دستور کو قبول کرتے ہوئے اسلام قبول کرتا ہے اورایمان کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس پر کچھ دینی ذمہ داریاں بھی عائد ہو جاتی ہیں۔یعنی اسلام اور ایمان محض زبان سے کلمہ شہادت ادا کرنے کا نام نہیں اور نہ ہی فقط دل میں خود کو مومن سمجھ لینے سے ذمہ داری ادا ہوتی ہے بلکہ ایمان کے عملی تقاضے پورے کرکے اپنے عمل کے ذریعے اپنے عقیدے و ایمان کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ نصاب تعلیم کیلئے سید ضیاء الدین رضوی نے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، آج سترہ سال گزرنے کے باوجود اس وقت کے وزیراعظم کے احکامات کو ردی کے ٹوکری میں ڈال دیا گیا اور اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کے قاتلوں کو گرفتار کر سزا دی جائے اور نصاب تعلیم کا مسلہ فی الفور حل کیا جائے۔
شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر متنازع مواد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نصاب مسلکی کہا جاسکتا ہے ،تمام مکاتب فکر کا متفقہ نہیں ہے۔تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کریں گے۔
حضرت فاطمۃ الزہراء(سلام اللہ علیھا) نے فرمایا:اگر تم اس پر عمل کرو جس کا ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اور اس چیز سے رک جاؤ جس سے ہم نے تمہیں روکا ہے تو تم ہمارے شیعہ ہو وگرنہ نہیں۔
علماء اور مذہبی اکابرین نے کیچ اور قبائلی علاقوں میں فورسز پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حمل ٹھرنے کے بعد ضایع کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ ماں کے لیے ضرر رکھتا ہو یا شدید مشقت کا باعث ہو جو معمولا قابل تحمل نہیں ہے، گر چہ یہ مشقت پیدا ہونے کے بعد اس کے پالنے کے حوالے سے ہو تو اس صورت میں روح آنے سے پہلے ضایع کر سکتے ہیں، اور اگر روح آچکی ہو جایز نہیں ہے،گر چہ بنا بر احتیاط واجب مشقت شدید اور ضرر رکھتا ہو اور اگر ماں مستقیم طور پے حمل کو ضایع کرے تو اس پر دیا واجب ہے، اور اسے چاہیٔے کہ باپ یا دوسرے وارثوں کو دیا دے، اور اگر خود باپ ضایع کرے تو اس پر واجب ہے اور وہ ماں یا دوسرے وارثوں کو دیا دے گا، اور اگر ڈاکٹر گرا رہا ہے تو اس پر واجب ہے گر چہ اس نے یہ کام ماں باپ کی درخواست سے ہی کیوں نہ کیا ہو، مگر یہ کہ ڈاکٹر کو وارث معاف کر دیں۔