امام حسینؑ کا مقصد حکومت یا شہادت نہیں بلکہ امت کی اصلاح تھا: رہبرِ شہید انقلاب
























اس جنگ کی ایک روش پراکسی وار ہے۔ جس میں دشمن کے اقتصادی زون میں موجود انسانی بستیوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ شبیر میثمی، علامہ جمعہ اسدی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری، وفاقی وزیر علی زیدی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور دیگر صوبائی وزرا نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
وزیراعظم عمران خان کے بیان کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے، دھرنے والے پہلے لاشوں کی تدفین کریں وہ پھر کوئٹہ جائیں گے، کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے ہیں اور لاہور کے تمام داخلی راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ لاہور میں جی ٹی روڈ پر امامیہ کالونی کے مقام پر شہریوں نے ریلوے پھاٹک بند کر دیا ہے اور جبکہ فیروز پور روڈ پر چونگی امر سدھو کے قریب بیجنگ فلائی اوور چوک میں سڑک پر دھرنا دیدیا گیا ہے۔
اس ملک میں پائیدار امن کیلئے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری بنانے کا وعدہ پورا کرے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے قم المقدس شہر میں شہدائے سانحہ مچھ کی یاد میں طلاب پاکستان کا ایک عظیم اجتماع منعقد ہوا جس میں طلاب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے خطاب میں مقررین نے مچھ سانحہ کے مجرمین کو انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے۔
لاہور میں دوسرے روز سے جاری دھرنے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اعجاز چوہدری نے شرکت کی اور دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں اور کوئٹہ کے شہدا کے لواحقین کے غم میں آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
رہے کہ 11 شیعہ ہزارہ کان کنوں کو داعش کے دہشتگردوں نے ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے ذبح کردیا تھا۔
مجلس وحدتِ مسلمین پاکستان کے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے پورے ملک میں اس وقت تک پُرامن دھرنے جاری رہیں گے جب تک ورثاء کی طرف سے خود دھرنے کے خاتمے اور لاشوں کی تدفین کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
حوزہ علمیہ مدینتہ العلم کوپن ھیگن ڈنمارک کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین سید مرید حسین نقوی ایک بیان میں کہا کہ کوئٹہ میں غریب محنت کشوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا۔ مقتولین کے ورثا گزشتہ پانچ دن سے جنازے رکھ کر شدید سردی میں وزیر اعظم کی آمد کے منتظر ہیں۔