پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























پنجاب کے بعض اضلاع میں متعصب پولیس افسران کے ایماء پر ملت تشیع کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ریاستی اداروں کا اپنے اختیارات سے تجاوز قانون و انصاف کی پامالی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ میڈیا موجودہ دور کا طاقتور ترین ہتھیار ہے۔جن قوموں نے میڈیا کی اہمیت و افادیت کا درک کر لیا ہے اور اس کا بہترین استعمال جانتی ہیں وہی مختلف محاذوں پر اپنا بہترین دفاع کر سکتی ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں نت نئی تکنیکوں سے آگہی ہم پر واجب ہے تاکہ دشمن کا کوئی حربہ ہم پر کارگر نہ ہو۔ ففتھ جنریشن وار کسی تہذیبی تصادم کا نام بلکہ میڈیا کے ذریعے گمراہ کُن پروپیگنڈہ سے ایک ہی اسلامی تہذیب سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنانے کی مذموم کوشش کا نام ہے۔
سیاست عوام کی خدمت اور حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا نام ہے۔دیندار لوگوں کی سیاست میں موجودگی پیغمرانہ شعار ہے جو مفاد پرست اور موقعہ شناس عناصر کے لیے حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے
انہوں نے کہا کہ جس طرح تنظیمی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے تنظیمی دوستوں کو خارج کیا جا رہا ہے اور تنظیمی اہداف کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ تنظیمی دوستوں کے ساتھ روئیے سے دلبرداشتہ ہوکر بطور احتجاج اپنی ذمہ داری سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔
مجلس وحدت المسلمین پاکستان شعبہ قم کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام محمد عادل مہدوی نے کہا کہ ہفتہ قبل پاکستان کے شہر کوئٹہ کو نشانہ بناکر غریب کان کنوں کے گلے کاٹے گۓ اور اب بغداد میں بم دھماکہ کرا کر بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لی گئی۔
پروگرام کے مہمان اور خطیب جامعہ المصطفےٰ شعبہ مشھد مقدس کے معاون آموزش حجت الاسلام والمسلمین عصار زادہ تھے۔ انہوں نے شھید سردار سلیمانی کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شہید ابو مھدی المھندس کے خداوند کریم پر محکم ایمان اور ان کی شجاعت و بصیرت پر بھی گفتگو کی۔
وفاق ٹائمز | قاتل دھشت گردوں نے یزید و شمر کی تاریخ دھرائی جبکہ ہمارے مظلوم شہداء عاشق کربلا تھے
ذرایع کے مطابق اسلام آباد ڈی چوک کے سامنے مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور آئی ایس او پاکستان کے آراکین کے ہمراہ مؤمنین و […]
حوزہ ٹائمز|حجت الاسلام مہدوی نے کہا کہ قائد اعظم نے ہمیشه اسلام اور مسلمانوں حتی کفار کے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت پر زور دیا ۔خلافت عثمانیہ توڑے جانے کی مذمت کی اور اسراییل بنائے جانے کے منصوبوں کو رد کرتے رہے اور جب اسراییل کا ناجایز اعلان ہوگیا تو آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔