یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام
























اسلامی جمہوریہ جب قائم ہوتی ہے تو اپنے ساتھ جمہوریت بھی لاتی ہے، آزادی بھی لاتی ہے اور دین کو بھی ساتھ رکھتی ہے اور دنیا پر تسلط قائم کرنے کے لبرل ڈیموکریسی کے عمائدین کے عزائم کو ناکام بنا دیتی ہے۔
یوم نکبہ جو ہر فلسطینی کےلئے تباہی ، بربادی اور قتل وغارت گردی کے سوا کچھ نہ لایا، ایک طرف پوری قوم اور خاندان اجاڑ دیئے گئے دوسری جانب آج کے روز یوم خاندان منایا جارہاہے ، اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مظلوم شہریوں اور ان کی املاک سمیت میڈیا ہاﺅسز اور صحافی بھی محفوظ نہیں، خاتون صحافی شیریں ابوالخیل کی شہادت بھی اس سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محمد ابراہیم صابری نے مزید کہا کہ الجزیرہ ٹی وی کی صحافی کی شہادت سے فلسطینیوں کی آواز کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بیت المقدس تمام مسلمانوں کو آواز دے رہا ہے جب تک بیت المقدس پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ موجود ہے تب تک سال کے ہر دن کو یوم قدس سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی حمایت ایک شرعی تقاضا ہے۔امریکہ، بھارت اور اسرائیل دور عصر کے سب سے بڑے ظالم اور غاصب ہیں۔ ان کے خلاف ملت تشیع بھرپور انداز میں احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ القدس پر اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کے خاتمے کا وقت بہت قریب ہے۔
سلطان عبد الحمید ثانی کا نام ہمیشہ تاریخ فلسطین میں یاد رکھا جاتا ہے۔ مسئلہ فلسطین حق وباطل کی ایک ایسی سرخ لکیر ہے کہ جس نے اپنے حمایتیوں اور مخالفین کو تاریخ میں رقم کر رکھا ہے۔ سلطان عبدالحمید ثانی ترکی کے شہر استنبول میں 21ستمبر 1842ء کو پیدا ہوا اور آپ نے 1876ء سے 1909ء تک سلطنت عثمانیہ کے منصب پر ذمہ داری نبھائی۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب سربراہ علامہ سید مرید حسین نقوی نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہاکہ مظلومین کی حمایت ایک شرعی تقاضا ہے۔دنیا بھر کے مسلمان مظلومین کی حمایت میں یک زبان ہو کر ظالموں کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
اس مہینے کی یکم کو سرزمین وحی پر شھید آیت اللہ الشیخ باقر النمر کا بے گناہ خون بہایا گیا اور اس کی 3 تاریخ کو اس عظیم انسان کا خون بہایا گیا ہے جس نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی کے لیے کام کیا، ہر مظلوم کے حامی رہے.
علی کاظم نے وفاق ٹائمز سے گفتگو میں اپنے اسلام قبول کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میرا خاندان عیسائی ہے اور جن عوامل کی وجہ سے میں نے اسلام قبول کیا ان میں سے ایک سیاسی مسئلہ تھا۔میں مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے بہت ہی حساس تھا اور میں خطے میں حزب اللہ لبنان جیسی مقاومتی اور مزاحمتی تحریکوں کے توسط سے انقلاب اسلامی ایران سے واقف ہوا۔