مولانا سید سلیمان حسینی ندوی انتقال کر گئے
























یونٹ کے سربراہ سیدہ فاطمہ الموسوی نے بتایا کہ یونٹ کی جانب سے یکم رمضان المبارک سے لیکر 27 رمضان المبارک تک ہر روز ختم القرآن کی دو بابرکت محافل کا انعقاد کیا جائے گا۔ قرآن خوانی کی پہلی محفل صبح 9:00 بجے اور دوسری مجلس دوپہر 2:30 بجے روضہ مبارک کی بیسمنٹ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں منعقد کی جائے گی۔
ملک دشمن منفی طاقتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطلب ملک و قوم کی سلامتی اور امن کو داؤ پر لگانا ہے۔
قومی اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر 28 مارچ تک ملتوی کردیا گیا۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس کے ایجنڈے میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل تھی۔
کیا قرأت صحیح ہونے کے مسئلہ میں فرادیٰ نماز نیز ماموم یا امام کی نمازکے درمیان کوئی فرق ہے؟ یا قرأت کے صحیح ہونے کا مسئلہ ہر حال میں ایک ہی ہے؟
وہ ایک متقی، مخلص، خدمتگذار اسلام اور اہلبیت اطہار کے سچے محب اور پیروکار تھے۔ وہ انقلابی، سیاسی اور علمی و اخلاقی میدان میں مسلسل فعال رہے اور خاص کر انقلاب اسلامی کے ظہور پذیر ہونے سے لے کر آخری سانس تک راہ خدا میں جدوجہد کرتے رہے
مرحوم ؒ کی انقلاب اسلامی اور حوزہ ہائی علمیہ اور علمی حلقوں میں نمایاں خدمات تھیں،ان کی علمی و دینی خدمات کا سلسلہ بہت طویل ہے ،مرحوم انقلاب اسلامی کے بعد حکومت اسلامی کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے
ان کا کہنا تھا آج یوم قرارداد پاکستان کے موقع پر ہر پاکستانی کو خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ فقیدالمثال قربانیوں سے حاصل کردہ اس وطن کی سالمیت پرآنچ نہیں آنے دیں گے ہمارے بڑوں نے قیام پا کستان کے وقت جو خواب دیکھے تھے ،اس میں حقیقت کا رنگ بھر نے کے لیے قوم کو متحد ہوکر اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ،ملک کو بدحالی کی دلدل سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں خلوص نیت سے جدوجہد کرنی ہوگی۔
پاکستان کا حصول محض کسی زمینی ٹکڑے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ایک ایسی اسلامی مملکت کا قیام تھا جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہو۔ جس کے داخلی و خارجی فیصلے قومی مفادات کے تابع ہو۔گزشتہ ستر سالوں سے عالمی استکباری طاقتیں پاکستان کے معاملات اور ہمارے دیگر ممالک سے تعلقات کو اپنی مرضی کے تابع دیکھنے کی متمنی ہیں۔
یہ دن 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا۔