صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ امین شہیدی نے کہا پاکستان میں اسلام دشمن قوتوں نے ڈالرز خرچ کر کے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دی، آج صورتحال یہ ہے کہ پاکیزگی، معنویت، تقدس، خدا پرستی اور محبت کے جذبات پر عناد، عدم برداشت اور شدت پسندی حاوی ہے۔ معاشرہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس قدر دور کر دیا گیا ہے کہ کھلے عام فحاشی کے پھیلائے جانے پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن میلاد کی محافل پر پابندی یا عزاداری کے جلوس کو روکنے کے لئے ایک پورا گروہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: ایسے معتدل مزاج، مخلص اور محب وطن رہنما کا خونِ ناحق ارباب اقتدار کی گردنوں پر قرض ہے۔مستقبل میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرکے ملک کے عوام کو تحفظ اور امن و سکون فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناعاقبت اندیشوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ یہ وہ وقت نہیں کہ عوام سے ان کے زمانے کے مقبول لیڈر لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کو چھین لیا جائے اور وہ Manageبھی ہوجائے اب وہ وقت گذر چکا اب ایسی کسی بھی حماقت پر بھرپور عوامی ردعمل بھی سامنے آئے گا اورعوام ملک دشمنوں کو معاف بھی نہیں کریں گے۔
انہوں نے نفس امارہ کو بتوں کی ماں اور برائیوں کو جنم دینے والے سات منہ والے اژدہا سے تعبیر کیا اور کہا: قرآن مجید سورہ یوسف کی آیت نمبر 53 میں فرماتا ہے: "... انَّ النَفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوءِ اِلَّا مَا رَحِمَ...". اگر نفس امارہ کو میدان دیا جائے، انسان کو مختلف برائیوں کی طرف لے جائے گا.
جسٹس سید افضل حیدر نے تاریخی فیصلے دے کر قوم کی رہنمائی اور اپنی تحریروں اور کالموں میں مثبت سوچ کو فروغ دیا
کراچی: معروف عالمِ دین و مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی نمازِ جنازہ دارالعلوم کراچی میں ادا کردی گئی۔
رہبر معظم انقلاب نے سینکڑوں اصفہانیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ اصفہان علم و ایمان اور فن و جہاد کا قابل تعریف شہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کا سب سے بڑا چلینج «ٹہراو، جمود و رجعت پسندی» کے مقابلے میں ترقی و پیش رفت ہے۔
والایمان أداء الفرائض واجتناب المحارم والایمان هومعرفة بالقلب وإقرار باللسان وعمل بالاركان۔
وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہاکہ معروف عالم دین مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار اور آپ کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں آپ کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں بعد بھی پر نہیں ہو سکے گا تحریر و تحقیق کے شعبہ میں آپ کی عالمانہ خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔