صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ شاعر مشرق کے افکار و خیالات دراصل امت مسلمہ کے ہر دردمند انسان کی آواز تھے، ان کے کلام سے شعری چاشنی تو حاصل کی گئی لیکن اس میں مخفی پیغام کو نہیں سمجھا گیا، ان کے نام سے ادارے تو بنائے گئے لیکن انکے پیغام کو عملی شکل دینے کی کوشش نہیں کی گی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں آزادی اظہار کو جرم قرار دے کر بے گناہ شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے آل سعود نے ایک طرف دین اسلام کی تعلیمات اور شعائر اللہ کا مذاق اڑایا اور دوسری طرف اپنے ہی عوام پر جبر ظلم و تشدد کا بدترین راج قائم کیا ہے۔
قرآن کریم سنٹر آستان قدس رضوی کے ڈائریکٹر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کے لیے کام کرنا کبھی خستہ نہیں کرتا ہے اور قرآن کبھی کسی کا منت کش نہیں ہے، نیز کہا: قرآن سے آشنا ہونا زندگی میں بہت مددگار ہے۔ معاشرہ قرآنی معاشرہ بن جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
دور حاضر میں یہ ایک اہم ترین بحث ہےکہ امامؑ کیوں غائب ہیں ؟ اور غیبت کیا ہے؟ اور وہ ہستی جنہیں اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے بھیجا ان کی غیبت میں ہم ان سے کیسے فیض حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ غیبت کب ختم ہوگی ؟
سعودی حکومت کی جانب سے 13 سالہ نوجوان کی سزائے موت کے اجراء پر آل سعود کے کارکنوں اور مخالفین کے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسن عسکری ؑ نے اپنی مختصرحیات طیبہ میں بھی دین کی آفاقی تعلیمات کی ترویج و اشاعت اور فروغ کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور اس راستے میں اس وقت کے حکمرانوں کے ظلم و ستم اور قید و بند کی صعوبتیں تک برداشت کرتے ہوئے اپنے مخلصین کے ذریعہ پیغام حق و صداقت عوام تک پہنچایا۔
حضرت فاطمہ معصومہ (س) میں دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ(س) مختلف احادیث کی راوی ہیں جن میں سے متواتر اور صحیح حدیث، حدیث منزلت ہے جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و اآلہ و سلم) نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں جنگ تبوک میں فرمایا تھا: "اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ھَارُونَ مِنْ مُوسَی اِلَّا اَنَّہُ لَا نَبِیَ بَعْدِی" اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا اس روایت کو ہمارے لیئے بیان کرنے والوں میں سے ایک ہیں.
ایرانی سفیر نے عمران خان اور حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کی صحت یابی کی دعا بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان توکہلا تے ہیں مگر قرآن سے دور ہیں۔ مختلف علوم حاصل کرنے کے لئے اربوں کھربوں کا بجٹ یونیورسٹیوں پر لگادیا جاتا ہے۔مگر علوم قرآن سیکھنے کے لیے ہم کچھ بھی خرچ نہیں کرتے ۔