صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے یوم عاشور کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی قیادت میں طاقتور اسلام کا ہراول دستہ باقی رہے گا۔
یوم عاشور کا مرکزی جلوس حسینیہ ابوالفضل العباس قم سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام کو حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ پاکستان اور قم کی مختلف ماتمی سنگتوں اور اور نوحہ خوانوں نے دوران جلوس ماتم داری کروائی۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ گریہ، ماتم اور علمبرداری اس انداز سے کریں کہ اپنے اندر روحانی سربلندی کو محسوس کر سکیں۔ دشمنانِ نواسہ رسولؐ اس قدر خوف زدہ ہیں کہ جو کوئی بھی باروح عزاداری کا انعقاد کرتا ہے، اس کے خلاف قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ایف آئی آر کاٹی جاتی ہیں۔
سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی جانب سے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں دشمن کے لشکر سے تاریخی خطاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سید الشہداء نے یزیدی لشکر سے کہا تھا کہ "اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے تو کم از کم اپنے دنیوی امور میں آزاد رہو۔" حجۃ الاسلام رفیعی نے کہا کہ حریت کا مطلب ہے نفسانی خواہشات اور میلانات سے انسان کی اندرونی آزادی۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا: یوم عاشور پر حکومت اور ریاستی اداروں کو فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے چاہئیں جبکہ عزاداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے مذہبی عبادت اور عزاداری میں مکمل تعاون کیا جائے۔
خطیب اہلبیت علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا اور امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب باوفا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کربلا متلاشیان حق کے لئے ایک درسگاہ ہے یہ امام حسین علیہ السلام کا تصدق ہے کہ آج پاکستان سمیت دنیا کا ہر ملک اور ہر شہر مدرسے میں تبدیل ہوچکا ہے آج حسین کے نام پر دنیا بھر میں ہونے والے اجتماعات یزید و یزیدیت پر خطِ تنسیخ کھینچ رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اکثر علاقوں میں ظالم و مظلوم ، قاتل و مقتول اور جابر و مجبور کی تمیز کیے بغیر مکتب تشیع کے محب وطن اور قانون پسند شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر توہین آمیز رویہ ایک مہذب قوم کی اہانت و تذلیل ہے جو قابل مذمت ہے
شب عاشور کو تہران کے حسینیہ امام خمینی میں مجلس عزائے سید الشہداء کا انعقاد ہوا جس میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شرکت کی۔
برائیوں اور مفاسد کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیرعادلانہ نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ؑ کے فرامین‘ کردار‘ سیرت‘ انداز عمل اور جدوجہد سے استفادہ کریں۔