صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























ایرانی دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حوزہ ہائے علمیہ ایران میں تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا۔
انہوں نے کہاکہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی بلند پایہ عالم اور فقیہ تھے۔مرحو م مجتہد کی وفات عالم اسلام کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ مرجع گراں قدر حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائیگانی کا انتقال پرملال عالم اسلام اور ملت تشیع اور حووزہ ہائے علوم دینیہ کے لیے بہت بڑا نقصان اور غم و اندوہ کا باعث ہے۔
آیت اللہ العظمی لطف الله صافی گلپایگانی رہ 19 فروری سنہ 1918 کو ایران کے شہر گلپایگان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ محمد جواد صافی مرحوم اپنے زمانہ کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے فقہ، اصول، کلام، اخلاق، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں۔ آپ کی والدہ مرحومہ بھی ایک صاحب علم اور ذی استعداد خاتون ہونے کے ساتھ مداح اہلبیت (ع) بھی تھیں۔
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے واضح کیا ہے کہ ملت جعفریہ ہرگز اہل بیتؑ کی مخالفت برداشت نہیں کرے گی، جبکہ شیعہ عقائد کو نظرانداز کرکے کوئی نصاب مسلّط نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا تمام طبقات کیلئے ”یکساں نصاب“ اچھا اقدام ہے، لیکن متعصب افراد نے اسے متنازعہ بنا دیا، بالخصوص نصاب میں مکتبِ تشیّع کو نظرانداز کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ علامہ ساجد علی نقوی کی قیادت میں ہم نے نصاب کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کئے ہیں، اگر ان کو دُور نہ کیا گیا تو ہم پُرامن احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔
عشرۂ فجر کی آمد اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کی تینتالیسیوں پرشکوہ سالگرہ کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای پیر کو علی الصباح اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر پہنچے اور انھوں نے نماز پڑھ کر اور قرآن مجید کی تلاوت کرکے، ایرانی قوم کے عظیم الشان قائد کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ولادت باسعادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کانفرنس( غلام حسین آڈیٹوریم جامع الصادق ٹرسٹ جی نائن ٹو ۔اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔
مجھے فرقہ پرستی والی سوچ، جو اکثریت پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسکے اقدامات سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ شیعہ کمیونٹی سرے سے الگ نصاب تعلیم کا مطالبہ نہ کر دے اور پہلے کی طرح الگ اسلامیات کی تحریک شروع نہ ہو جائے۔