پاکستان؛ آل شیعہ تنظیموں کے تحت ”شہید امت“ کانفرنس 13 جون کو مینار پاکستان پر منعقد ہوگی
























ایران کے شہر قم المقدس میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا انعقاد سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم نے کیا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ مسلمانوں ممالک کے درمیان نااتفاقی ، ایک دوسرے کے دکھ درد اور مسائل سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔57 اسلامی ممالک میںبہت سی مشترکہ اقداراوربے پناہ دولت کے باوجود ددنیا بھر میں مسلمان ہی ظلم و ستم کا شکار ہیں۔کشمیریوں کا حق خود ارادی ختم کیا گیا،ہزاروں کو شہید کیا گیا لیکن مسلم حکمران اسے پاکستان کا مسئلہ قرار دے کر پہلو تہی کرتے ہیں.
انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور طریقے سے ان ریلیوں میں شریک ہوکر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔
اجلاس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل سابقین امامیہ نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹرز ،پروفیسرز، بزنس مین، ٹیچراور دیگر فلیڈ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
انہوں نے اسلامی مشترکات کے فروغ اور فرقہ وارانہ تعصبات کے خاتمہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان دشمنوں کا سب سے موثر ہتھیار فرقہ واریت ہے۔ امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور دیگر عالمی طاقتیں اس ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے اسلام اور پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خود طویل عرصہ برسراقتدار رہی ہیں وہ خود بہتر طرز حکمرانی قائم نہ کر سکیں۔ موجودہ حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔
شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارا نہ ہم آہنگی موجود ہے، شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔امریکی استعماری ایجنڈے پر عمل کرنے والے کچھ شر پسند عناصر سر اپنی روزی روٹی کی خاطر مسلمان فرقوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں.
پاکستان میں اس وقت دینی مدارس کے نمائندہ پانچ وفاق المدارس یا بورڈز ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ دیوبندی مکتبہ فکر، تنظیم المدارس اہل سنت، وفاق المدارس الشیعہ، وفاق المدارس سلفیہ اورتنظیم رابطۃ المدارس (جماعت اسلامی) شامل ہیں۔
جمعیت علمائے پاکستان کا مشاورتی اجلاس ، سنی جماعتوں کے اتحاد کا فیصلہ