0

انیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح

  • News cod : 16534
  • 02 می 2021 - 0:02
انیسویں رمضان کی دعا اور اس کی تشریح
أللّهُمَّ وَفِّر فيہ حَظّي مِن بَرَكاتِہ وَسَہلْ سَبيلي إلى خيْراتِہ وَلا تَحْرِمْني قَبُولَ حَسَناتِہ يا هادِياً إلى الحَقِّ المُبينِ ترجمہ: اے معبود! اس مہینے میں میرا نصیب اس کی برکتوں سے مکمل کرلے اور اس کی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف میرا راستہ ہموار اور آسان کر، اور اس کے حسنات کی قبولیت سے مجھے محروم نہ فرما، اے آشکار حقیقت کی طرف ہدایت دینے والے

تحریر: حجت الاسلام سید احمد رضوی

انسان کی خلقت کے اہداف میں سے ایک معرفت الٰہی ہے اور معرفت کا حصول ہدایت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر انسان کو خلق کرنے اور اس تخلیق کا ہدف اور مقصد بھی معین کرنے کے بعد اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ نہ دکھایا جائے ، یا اس تک رسائی کے ممکنہ راستوں کی طرف ہدایت نہ کی جائے تو یہ عدل کے منافی ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پر بہت ہی زور دیا گیا ہے اور مختلف وسائل کے ذریعے ہدایت کا راستہ ہموار رکھا گیا ہے ۔

روایت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کی خاطر دو قسم کی حجتیں رکھی ہیں:
1۔ باطنی حجت؛
2۔ ظاہری حجت ۔

أَبُو اَلْحَسَنِ مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : يَا هِشَامُ إِنَّ لِلَّهِ عَلَى اَلنَّاسِ حُجَّتَيْنِ حُجَّةً ظَاهِرَةً وَ حُجَّةً بَاطِنَةً، فَأَمَّا اَلظَّاهِرَةُ فَالرُّسُلُ وَ اَلْأَنْبِيَاءُ وَ اَلْأَئِمَّةُ عَلَيْهِمُ اَلسَّلاَمُ ، وَ أَمَّا اَلْبَاطِنَةُ فَالْعُقُولُ.
عقل انسان کے لئے باطنی حجت ہے ،جبکہ انبیائے کرام اور ائمہ معصومین علیہم السلام ظاہری حجت ہیں۔
ہدایت کی اقسام:
۱۔ ہدایت تکوینی:رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى‌ كُلَّ شَيْ‌ءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى‌
ہدایت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ انسان کو فطری طور پر کچھ چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے، کسی دوسرے کی جانب سے سکھانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ہدایت کے اس مرحلے میں دوسری مخلوقات بھی اس کے ساتھ ہیں۔
۲۔ تشریعی ہدایت:إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبِيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً
ہدایت تشریعی سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے کچھ چیزوں کی جانب انسان کی رہنمائی کی ہے اور ان پر عمل کرنے سے انسان فلاح پاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی رو سے خداوند عالم مندرجہ ذیل افراد کی ہدایت کرتا ہے:
۱۔ مومنین،من یومن باللہ یرتد قلب
۲۔ توبہ کرنے والے، وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ
۳۔ خدا پر بھروسہ کرنے والے،وَ مَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلى‌ صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ
۴۔ جہاد کرنے والے،والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا
۵۔ اہل تقوی،
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:  هُدِيَ مَن أشعَرَ التَّقوى قَلبَهُ۔ جس نے خود کو پالیا اس کو ہدایت مل گئی۔
۶۔ صبر کرنے والے،
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ہدی من اورع لباس الصبر والیقین۔ جس نے صبر اور یقین کا لباس پہن لیا اسے ہدایت مل گئی
۷۔ مخلصین،
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:جو خالص ایمان لایا وہ ہدایت پاگیا۔
۸۔ نہی از منکر کرنے واالے،
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:جس نے تلوار کے ذریعے کلمہ حق کی سربلندی کے لئے قیام کیا گویا اس نے ہدایت پالی۔
۹۔ علما،
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:جس کو رشد حاصل ہوا، اسے علم حاصل ہوا اور جسے علم ملا ، اس کی ہدایت ہوگئی اور جو ہدایت پاگیا، اسے نجات مل گئی۔
ہدایت الٰہی سے محروم رہ جانے والے:
۱۔ ظالمین،ان اللہ لا یہدی القوم الظالمین
۲۔ کفار۔ان اللہ لا یہدی القوم الکافرین
۳۔ فاسق،ان اللہ لا یہدی القوم الفاسقین
۴۔ جھوٹے لوگ،ان اللہ لا یہدی من ہو کاذب
۵۔ اسراف کرنے والے،ان اللہ لا یہدی من سرف کذاب
۶۔ نفس کی پیروی کرنے والے۔ امام علی: کیف یستطیع الہدی من یغلبہ الہدی

ہدایت کا بہترین وسیلہ:
ہدایت کے مختلف راستے اور وسیلے ہیں، جن میں سے بہترین وسیلےیہ ہیں:
۱۔ قرآن مجید

ان ہذا القرآن یہدی للتی ہی اقوم
ذالک الکتاب لاریب فیہ ہدی للمتقین
۲۔ اہل بیت علیہم السلام

:پیامبر : انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی و انہما من یفترقا حتی یردا علی الحوض
انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی ما ان تمسکتم لن تضلوا بعدی ابدا
خداوند عالم ہم سب کو اپنی ہدایت کے ذریعے ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور حقیقی ہدایت پانے والوں میں سے قرار دے کر دوسروں کی ہدایت کا بھی سبب بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16534