1

غیبت امام زمان عج ( قسط 12)

  • News cod : 21673
  • 01 سپتامبر 2021 - 13:04
غیبت امام زمان عج ( قسط 12)
ايک ايسا فرد کہ جو انسانوں کا رہبر اور ہادي ہو اور لوگ کمال کي طرف سفر کے لئے اس کے دامن سے وابستہ ہوں وہ غائب ہوجائے تو يہ ايک ايسي چيز ہے کہ جو ايک عام رہنما اور عادي انسان کي روش کے خلاف ہے۔ لہذا اسے بعيد سمجھتے ہوئے انکار کرديا جائے گا ليکن گزشتہ بعض پيغمبروں عليھم السلام غيبت کا تحقق اور تاريخ پڑھنے سے امام مہدي عليہ السلام کي غيبت کے مسئلہ کہ آساني اور صحيح طريقہ سے سمجھا اور قبول کيا جاسکتاہے

سلسلہ بحث مہدویت
تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

کچھ اہم سوالات کے جوابات
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی کوئی حجت خدا غائب ہوئی ہے ؟
جواب:
اس سوال کے جواب کو چند قسطوں میں پیش کیا جائیگا.اس سوال کا جواب دینے سے پہلے واضح کریں گے کہ یہ کوئی نیا سوال نہیں ہے بلکہ یہی سوال خود آئمہ علیہم السلام سے بھی کیا گیا حتی اوائل غیبت میں یہ سوال اتنی شدت سے پیدا ہوا کہ امام عصر عج کے حکم سے شیخ صدوق علیہ الرحمۃ جیسی شخصیت نے شہرہ آفاق کتاب کمال الدین تحریر فرمائی.. ہم اس سوال کی اہمیت اور مکمل شافی جواب سے آگاہ ہونے کے لیے سب سے پہلے ایک تمہید بیان کریں گے.

تمہید بحث:

پروردگار متعال نے کائنات کو ایک تعجب خیز نظم اور ظرافت کے ساتھ پیدا کیا ۔ ہر طرح کي مخلوق کو اس کی حقیقت و ماھیت کے مطابق ایک مناسب ھدف کے ساتھ آگے بڑھایا۔ديگر مخلوقات کي مانند نوع انسان کو بھی ان کی حیات کے مراحل کے پيش نظر ایک راہ دیا کہ وہ علم و شناخت کے ساتھ اس راہ میں قدم اٹھائیں۔اب یہاں جو چیز ناقابل یقین محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ افراد بشر میں سے کسی ایک کے لئے ایسے حوادث ظاہر ہوں کہ اس کی زندگی کے خدو خال دوسروں سے مخہوجائیں ٬ باالفاظ ديگر لوگ نفساتي طور پر ايک نئي اور منفرد چيز کو جب ديکھتے ہيں اور اس کے پيچيدہ ہونے کي بناء پر اسے واضح انداز سے درک نہ کرسکيں يا کسي اسي چيز کو جو عادي اور طبيعي راہ سے ہٹ کر سامنے آئے تو مدافعانہ روّيہ بناتے ہيں اور آساني سے اسے قبول نہيں کرتے۔
ايک ايسا فرد کہ جو انسانوں کا رہبر اور ہادي ہو اور لوگ کمال کي طرف سفر کے لئے اس کے دامن سے وابستہ ہوں وہ غائب ہوجائے تو يہ ايک ايسي چيز ہے کہ جو ايک عام رہنما اور عادي انسان کي روش کے خلاف ہے۔ لہذا اسے بعيد سمجھتے ہوئے انکار کرديا جائے گا ليکن گزشتہ بعض پيغمبروں عليھم السلام غيبت کا تحقق اور تاريخ پڑھنے سے امام مہدي عليہ السلام کي غيبت کے مسئلہ کہ آساني اور صحيح طريقہ سے سمجھا اور قبول کيا جاسکتاہے۔

مرحوم شیخ صدوق (رح)کی پریشانی اور عظیم خواب:

مرحوم شيخ صدوق (رح) جو کہ عالم تشيع کے بزرگان اور عظيم علماء ميں سے تھے اور غيبت صغري کے زمانہ کو پايا اور غيبت کبري کے اوائل تک زندہ تھے اپني کتاب (کمال الدين و تمام النعمہ) کے مقدمہ ميں لکھتے ہيں : اس کتاب کے مصنف شيخ ابوجعفر محمد بن علي بن حسين بن موسي بن بابويہ قمي کہتے ہيں: کہ ميرا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد يہ تھا کہ جب ميري امام رضا عليہ السلام کي زيارت کي آرزو پوري ہوئي تو زيارت کے بعد ميں نيشابور لوٹا اور وہاں اقامت کي, تو ديکھا بہت سے شيعہ کہ جو ميرے پاس آمد و رفت رکھتے تھے غيبت کے مسئلہ ميں حيران و پريشان تھے اور امام قائم عليہ السلام کے حوالے سے شک و ترديد ميں تھے اور راہ مستقيم سے منحرف ہوکر گمان و قياس ميں پڑے ہوئے تھے.تو ميں نے پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور آئمہ اھلبيت عليھم السلام کي احاديث کي مدد سے ان کي راہنمائي کي کوشش شروع کي تاکہ انہيں حقيقت و سچائي کا راستہ دکھلاؤں کہ ايک دن قم کے علماء ميں سے ايک اھل فضل وعلم شخصيت بخارا سے ہمارے پاس آئي … اور ايک دن مجھ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بخارا کے ايک بزرگ فلسفي و منطقي شخص کي کلام ميرے ليے نقل کي کہ اس کلام نے انہيں حضرت قائم عليہ السلام کے حوالے سے انہيں حيران کيا ہوا تھا۔
امام کي طولاني غيبت اور ان سے احاديث و اخبار کا سلسلہ منقطع ہونے سے وہ شک و ترديد ميں پڑا ہوا تھا۔
تو میں نے حضرت قائم علیہ السلام کے وجود کے اثبات میں چند فصل بیان کیں اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار سے کچھ روایات ان کی غیبت کے حوالے سے بیان کیں تو ان احادیث و روایات کو سن کر وہ مطمئن ہوا , شک و تردید اس کے دل سے نکل گیا اور مجھ سے کچھ صحیح احادیث اس مورد میں قبول کیں اور یہ درخواست کی اس موضوع میں اس کے لئے ایک کتاب تالیف کروں۔

دیدار جمال حضرت عج:

اسی دوران ایک رات شہر ری میں اپنے خاندان ، بچوں اور بھائیوں اور الہی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک دم نیند کا مجھ پرغلبہ ہوا اور ميں نے خواب دیکھا گویا میں مکہ میں ہوں اور بیت اللہ الحرام کا طواف کررہاہوں ساتویں طواف میں حجر الاسود کے پاس پہنچا اور اسے بوسہ دیا یہ دعا پڑھی : ”أمانَتِی أدّیتُمَا و میِثَاقِیْ تَعَاھَدْتُہُ لِتَشْھَدَ لِیْ بالمُوَافَاہ” یہ میری امانت ہے کہ اسے اداکررہاہوں اور یہ میرا ایمان ہے کہ اسے پورا کررہاہوں کہ تم اس کے ادا کرنے پر گواہی دینا۔
اسی وقت میں نے اپنے مولی صاحب الزمان صلوات اللہ علیہ کو دیکھا کہ آپ خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے تھے….
(جاری ہے…….)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=21673