0

حضرت نرجس علیہا السلام، قسط 2

  • News cod : 25405
  • 15 نوامبر 2021 - 13:31
حضرت نرجس علیہا السلام، قسط 2
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ : جب ہم غیبت نعمانی کا جائزہ لیتے ہیں تو وہاں یہ روایت نہیں پاتے یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو انہوں نے مذکورہ روایات کا اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اس سے روایت کے ضعیف ہونے کا نتیجہ لیا جا سکتا ہے؟

سلسلہ بحث محور کائنات

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)
اس روایت کو نقل کرنے والی کتابوں کا تجزیہ:
۱۔سب سے پہلی شخصیت کہ جنہوں نے اس روایت کو نقل کیا اور باقی سب پر مقدم ہیں ، شیخ صدوق ہیں کہ جنہوں نے اسے اپنی کتاب ” کمال الدین و تمام النعمۃ ” میں نقل کیاہے۔
انہوں نے اس روایت کو اس سندکے ساتھ ذکر کیاہے:
” حدثنا محمد بن علی النوفلی، قال: حدثنا ابوالعباس اھمد بن عیسی الوشاء البغدادی، قال: حدثنا احمد بن طاھر القمی، قال: حدثنا ابوالحسین محمد بن بحر الشیبانی ….” ( کمال الدین و تمام النعمۃ، شیخ صدوق، ج ۲، ص ۸۹، تھران، انتشارات اسلامیہ)
۲۔ دوسری شخصیت کہ جنہوں نے یہ ماجرا نقل کیاہے محمد بن جریر طبری شیعہ ہیں کہ اس روایت کو اپنی کتاب ” دلائل الامامۃ ” میں ذکر کیا ہے لیکن اس روایت کی سند کمال الدین کی سند سے مختلف ہے۔
طبری کہتے ہیں:
” حدثنا المفضل محمد بن عبداللہ بن المطلب الشیبانی، سنۃ خمس و ثمانین و ثلاثمئۃ قال: حدثنا ابوالحسین محمد بن یحیی الذھبی الشیبانی، قال: وردت کربلا سنۃ ست و ثمانین و مئتین … ” (دلائل الامامۃ، محمد بن جریر طبری، ص ۲۶۲، نجف، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ۔)
جس طرح کہ ملاحظہ کیا گیا ہے کہ طبری کے ذریعے یہ ماجرا اس تاریخ کے ۹۹ سال بعد نقل ہوا کہ جس تاریخ میں شیبانی نے یہ بشر بن سلیمان سے سنا تھا۔
اب یہاں بحث ہے کہ آیا محمد بن یحیی الذھبی الشیبانی وہی محمد بن بحر الشیبانی ہے کہ جس کا کمال الدین میں ذکر ہوا یا یہ دو نفر تھے ؟
اگر دو افراد کو ایک ہی نفر جانا جائے تو نکتہ یہاں ہے کہ گویا طبر ی نے ایک واسطہ سے ماجرا ان سے نقل کیا ہو کہ یہ مطلب بعید محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں ان دونوں میں سے ایک کی عمر یعنی مفضل یا محمد بن یحیی کی عمر بہت طولانی ہو نی چاہیئے۔
البتہ قطعی نظر نہیں دی جاسکتی کہ وہ کمال الدین کی سند میں ” محمد بن بحر ” نہ ہو یا یہ کہ مفضل بغیر واسطہ کے اس سے نقل نہیں کر سکتے تھے کیونکہ بعض افراد طولانی عمر رکھتے تھے. بعنوان مثال :
” خبابہ والبیۃ ” کہ جنہوں نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا زمانہ پایا تھا. وہ چوتھے امام کے زمانہ میں ایک سو تیرہ سال کے تھے اور امام کے اشارے سے جوان ہوئے اور امام رضا علیہ السلام کے زمانہ تک یعنی دو سو پینتیس سال عمر کی ۔ ( کافی ۱: ۳۴۶ ؛ مرآۃ العقول، ۷۸:۴ ؛ تنقیح المقال، ج ۳، ص ۷۵ (چاپ سنگی )نشانہ ھای از دولت موعود : ص ۹۱)
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کہ نبی اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے وہ امام باقر علیہ السلام کے زمانہ تک قید حیات میں تھے۔ (کمال الدین و تمام النعمۃ، ج ۱، ص ۳۰۵، حدیث لوح )
اسی طرح عامر بن واثقہ کہ جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے سو سال سے زائد عمر پائی۔ (مستدرکات علم الرجال، ج ۱، ص ۱۰۲؛ سیر اعلام النبلاء شمس الدین ذھبی، بیروت، مطبعۃ الرسالۃ، ج ۳، ص ۴۷)
اور آخری صحابی تھے کہ جنہوں نے دنیا کو الوداع کیا. یہ جن کی مثالیں دی گئی ہیں وہ افراد تھے کہ جنہوں نےطولانی عمر پائی ہے البتہ یہ شخص ” معمر ان ” (جنہوں نے طولانی عمر پائی ) میں شمار نہیں ہوا۔
احتمال ہے کہ مفضل محمد بن عبداللہ بن مطلب شیبانی اور محمد بن یحیی ذھبی شیبانی کے درمیان کچھ افراد سند میں تھے کہ جن کا نام ذکر نہیں ہوا لیکن ان کے نقل کرنے میں ایساکوئی اشارہ نہیں ہوا کہ بعض راویوں کاذکر نہیں کیا گیا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ : جب ہم غیبت نعمانی کا جائزہ لیتے ہیں تو وہاں یہ روایت نہیں پاتے یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو انہوں نے مذکورہ روایات کا اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اس سے روایت کے ضعیف ہونے کا نتیجہ لیا جا سکتا ہے؟
اس کے جواب میں کہیں گے : جیسا کہ کتاب الغبیۃ میں نعمانی کے مقدمہ میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر جامع کتاب لکھنا نہ تھی اسی لیئے صراحت سے بتاتے ہیں، کہ وہ روایات کہ جو اس کتاب میں لایا ہوں ان روایات کی نسبت بہت کم ہیں کہ جنہیں نہیں لایا ہوں ان کی نظر فقط غیبت سے متعلق روایات نقل کرنا تھی۔
۳۔تیسری کتاب کہ جس میں روایت موجود ہے مرحوم شیخ طوسی کی ” کتاب الغیبۃ ” ہے. انہوں نے بالکل کمال الدین کی مانند روایت کو ذکر کیا لیکن ان کی سند کمال الدین کی سند سے مختلف ہے ۔
۴۔ابن فتال نیشاپوری (متوفی ۵۰۸ ھجری قمری ) کی کتاب ” روضۃ الواعظین ” ایک اور کتاب ہے کہ جس میں یہ روایت موجود ہے وہ کہتے ہیں : (اخبرنی جماعۃ ) یعنی ایک گروہ نے ابوالمفضل شیبانی سے روایت نقل کی ہے۔( روضۃ الواعظین ، قم، موسسہ المعارف الاسلامیۃ، ص ۲۰۸، ح ۱۷۸)
جیسا کہ ملاحظہ ہوا ہے اس کتاب میں ابوالمفضل اور دلائل میں المفضل آیا ہے کہ ابوالمفضل شیبانی نے محمد بن بحر بن سھل شیبانی سے نقل کیا ہے لہٰذا محمد بن بحر یہاں کمال الدین کی سند کےساتھ مشترک ہے اور اس نے بھی یہ ماجرا بشر بن سلیمان سے نقل کیا ہے۔
اس کتاب میں روایت کا متن بالکل وہی کمال الدین کی مانند ہے اس فرق کے ساتھ کہ یہاں سند مرسل ہے۔
۵۔ابن شھر آشوب نے کتاب ” مناقب آل ابی طالب ؑ ” میں یہ ماجرا بشر بن سلیمان سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (مناقب آل ابی طالب ، ابن شھر آشوب ، ج ۴، ص ۴۴۰)
۶۔یہ روایت عبدالکریم نیلی (متوفی نویں صدی ھجری قمری) کی کتاب ” منتخب الانورا لامضیئۃ ” میں کمال الدین سے نقل ہوئی ہے ۔ (منتخب الانورا المضیئۃ، عبدالکریم نیلی، ص۱۰۵)
۷۔متاخرین میں سے بھی کتاب( اثبات الھداۃ فی النصوص والمعجزات ج۳، ص ۳۶۳ و ۴۰۸ و ۴۰۹ و ۱۴۹۵ )میں یہ ماجرا نقل ہوا ہے اس کی سند یا غیبت شیخ طوسی یا کمال الدین صدوق کی طرف پلٹ رہی ہے ۔
۸۔ اسی طرح یہ روایت ہاشم بحرانی کی کتاب ” حلیۃ الابرار ” ج ۵، ص ۱۴۱ پر ذکر ہوئی ہے۔انہوں نے اس داستان کو ایک جگہ پر لیکن دو سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان کی ایک سند محمد بن جریر طبری کی مسند فاطمہ سے ہے اور دوسری سند کمال الدین سے نقل ہوئی ہے۔
۹۔علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں مذکورہ داستان کو ایک جگہ غیبت شیخ طوسی کی سند سےاور دوسرے مقام پر کمال الدین سے نقل کیا ہے۔ (بحار الانورا، محمد باقر مجلسی، نجف، داراحیاء التراث العربی، ج۵۱، ص ۶ و ۱۰۔)

جاری ہے..

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=25405

مزید خبریں