2

غیبت امام مہدی ع قسط (53)

  • News cod : 35397
  • 14 ژوئن 2022 - 14:35
غیبت امام مہدی ع قسط (53)
سلسلہ بحث مہدویت تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت) تمہید: ايک راہ اور عقيدہ کي عميق تشريح اور اس کے بيشتر کار آمد ہونے کے لئے ، ناگزير ہيں کہ اس کو لاحق خطرات و انحرافات اور اس کے دشمنوں کو پہچانا جائے تاکہ اس شناخت کے زير سايہ ان خطرات سے بچا جائے اور دشمنوں سے مناسب مقابلہ کيا جاسکے۔

سلسلہ بحث مہدویت

تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)

تمہید:
ايک راہ اور عقيدہ کي عميق تشريح اور اس کے بيشتر کار آمد ہونے کے لئے ، ناگزير ہيں کہ اس کو لاحق خطرات و انحرافات اور اس کے دشمنوں کو پہچانا جائے تاکہ اس شناخت کے زير سايہ ان خطرات سے بچا جائے اور دشمنوں سے مناسب مقابلہ کيا جاسکے۔
دشمنوں کے تجزيہ ميں سب سے پہلے ضروري ہے کہ دشمني کے اسباب اور پھر دشمنوں کے طريقہ کار اور ان کے وسائل کا جائزہ ليا جائے اور آخر ميں ان سے مقابلہ کرنے کي راہوں پر غور وفکر کيا جائے۔
ہم نے اس نوشتہ ميں (مسئلہ انتظار مہدويت)کے مد مقابل دشمنوں کے تمام طرح کے طريقوں اور روشوں کو نہيں بتانا چاہتے کيونکہ ايسي چيز نہ ہمارے حيطہ علم و تحقيق ميں ہے اور نہ انہيں جاننا کوئي آسان کام ہے۔
ہمارا مقصد يہ ہے کہ واضح ہوجائے دشمن سنجيدگي سے مہدوي عقيدہ کا مقابلہ کررہا ہے اسي ضمن ميں ہم ان کي روشوں اور طريقہ کار سے بہتر آشنائي پيدا کريں اور بغير کسي غفلت کے اس ميں مزيد غور و فکر کريں تاکہ دشمنوں کي ناپاک کوشش کے مد مقابل عقيدہ مہدويت کے حقائق کي تبليغ و ترويج اور اس پر عملي کوششوں کے لئے حرکت کريں ۔
مہدویت کلچر سے دشمنی اور مقابلے کے اسباب:
۱۔جھالت اور ناآگاہی:
( الناس اعداء ما جھلوا ،لوگ جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہیں اس کے دشمن ہوجاتے ہیں ) نھج البلاغہ، کلمات قصار، ۱۷۲
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دشمنوں کی عداوت اور دشمنی کے مقابلے میں اللہ تعالي کي بارگاہ ميں سے اس طرح مناجات کرتے ہیں: اللھم اھد قومی فانھم لایعلمون:
اےمیرے پروردگار میری قوم کو ھدایت دے وہ جاھل ہیں. طبرسی، اعلام الوری،باب۴،ص۸۳
انبیاء اور اوصیاء کرام کی تاریخ پر اجمالي سي نظر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بہت سے افراد ، ناآگاہی اور جھالت اور شناخت نہ رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھتے تھے نہ کہ عناد اور تعصب کی بنیاد پر.
ایک بوڑھے شامي نے جب کربلا کے اسیروں کو اپنے شہر کے درمیان دیکھا ،تو خدا کا شکر ادا کرنے لگا ۔
امام سجاد علیہ السلام نے اپني اور اپنے ہمراہوں اور شہدا کی شناخت کروائی ، بوڑھا شخص شرمندہ ہوا اور داد فریاد کرنے لگا ۔ سید ابن طاووس، اللھوف علی قتلی الطفوف،ص ۱۷۶
تاریخ میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔
حضرت صاحب الزمان عجل اللہ کی نسبت جہالت اور نا آگاہی دو طرح کی ہے۔
۱۔بعض صرف امام عجل اللہ فرجہ کی شناخت نہ رکھنے اور مہربانی، منطق، حکمت اور آپ کے حضور و قیام کے ديگر آثار کی شناخت نہ رکھنے کی وجہ سے آپ سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا آپ کی مدد کے لئے قیام نہیں کرتے ۔
۲۔دوسرا گروہ آپ کے مقام کی شناخت نہ رکھنے کی دلیل کی بناء پر اور حجت کي طرف اضطرار کا مسئلہ کے حل نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، يہ وہ لوگ ہيں کہ جو دوسرے جہان کے قائل نہیں ہیں یعنی آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اس دنیا کو صرف حیوانی امور کے لئے تصور کرتے ہیں لہذا وہ آل محمد کی ضرورت کو درک نہیں کرتے ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (حضرت مہدی عج) غائب ہوں گے تو جاھل کہیں گے کہ آل محمد کی ضرورت نہیں ہے. طوسی، الغیبۃ ،فصل ۵، ص ۳۴۱
وحی کی بجائے خودساختہ دینی اور عقلی تجربات کو اپنانا ہی تمام توھمات کا سرچشمہ ہے ۔
۲۔بے جا تعصب:
بل قالوا انا وجدنا آبائنا علی امۃ و انا علی آثارھم مھتدون. زخرف ۲۲۔
ترجمہ:ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو دين پرپایا ہے اور ہم ان کی پیروی میں ہدایت پانے والے ہیں۔
ہر شخص جو عقیدہ بھی رکھتا ہو ، بحث اور گفتگو کے میدان کو کھلا رکھے اور حق کي تلاش ميں رہے اور اگر حق کو پالے تو اسے قبول کرلینا چاہے۔
مگر بعض لوگ ہیں جو اپنے عقيدہ میں جمود اور بے جا تعصب رکھتے ہیں یعنی ان پر حق روشن اور واضح بھی ہوجائے کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں یا یہ کہ یا جس نظریہ کو انہوں نے انتخاب کیا ہے وہ غلط ہے پھر بھی اپنے عقیدے پر برقرار رہتے ہیں اور حق کے مقابلے میں سرتسلیم خم نہیں کرتے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو فکر و تدبر کو اہمیت نہیں دیتے، محکم دلیل اور برھان پر توجہ نہیں کرتے اور صرف اپنے سطحی اور تقلیدی ایمان پر ڈٹے رہتے ہیں اور تجزیہ اور تحقيق کی جرات ان میں نہیں پائی جاتی نيز حق کو سننے اور قبول کرنے سے گریزاں ہیں ۔
حضرت مہدی عج اللہ فرجہ الشریف اور فکر مہدویت کے دشمنوں میں اکثر گروہ ایسے ہیں کہ جو تنہا بے جا تعصب کی بنا پر مخالفت رکھتے ہیں ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اذا خرج القائم لم یبق مشرک باللہ العظیم ولا کافرا الا کرہ خروجہ. مجلسی، بحارالانوار،ج ۵۲،ص ۳۴۶، باب۲۷، تفسیر عیاشی،ج ۲، ص۷۳.
حضرت مہدی القائم جب قیام کریں گے مشرکین اور کافرین آپ کے قیام سے کراہت محسوس کریں گے یعنی خوش نہیں ہوں گے ۔
۳۔منفعت طلبی، حب دنیا:
مفاد پرستي اور شھوت رانی ایک دوسرا عامل ہے کہ جس نے بہت سے لوگوں کو حق سے جدا
کیا ہے یا حق کے راستے پر آنے سے رکاوٹ ہے۔ ایسے لوگ کم نہیں تھے کہ دنیوی لالچ کی بنا پر حق اور حق والوں کے مقابلے میں دشمنی اور مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، خواہ یہ طمع دولت و ثروت اور جاہ و مقام کے لئے ہو خواہ ہوا و ہوس وغيرہ کے لئے ہو۔
ہمیشہ سے طلحہ اور زبیر جیسے افراد موجود ہیں جو جاہ و مقام اور نفسانی خواہشوں کی خاطر مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ان الناس عبید الدنیا والدین لعق علی السنتھم یحوطونہ مادرّت معایشھم فاذا محصوا بالبلاء قل الدیّانون۔ بحارالانوار، ج٤٤، ص٢٨٣.
لوگ دنیا کے غلام ہیں دین کا ورد فقط ان کی زبانوں پر جاری ہے اور امتحان کے وقت حقيقي دیندار کم ہیں۔
امام صادق علیہ السلام محبت اھل بیت رکھنے کا دعوا کرنے والوں کی اس طرح سے تعریف کرتے ہیں:
افترق الناس فینا علی ثلاث فرق، فرقۃ احبونا انتظار قائمنا لیصیبوا من دنیانا ، فقالوا و حفظوا کلامنا و قصروا عن فعلنا، فسیحشرھم اللہ الی النار و فرقۃ احبونا و سمعوا کلامنا و لم یقصروا عن فعلنا، لیستا کلوالناس بنا فیملا اللہ بطونھم نارا ویسلط علیھم الجوع والعطش و فرقۃ احبونا و حفظوا قولنا و اطاعوا امرنا و لم یخالفوا فعلنا فاولئک منا و نحن منھم، حسن بن شعبہ حرانی ، تحف العقول، ص ۶۲۲
ہماری نسبت سے لوگوں کے تین گروہ ہیں:
ایک گروہ اس امید کی بنا پر ہمیں دوست رکھتا ہے تاکہ ہماری دنیا سے فائدہ اٹھائے، ہمارے اقوال کو نقل کرتے ہیں اور حفاظت کرتے ہیں لیکن ہمارے عمل کے متعلق احکام پر عمل کرنے سے کوتاہی برتتے ہیں۔ خدا انہیں جھنم رسید کرے، ایک فرقہ ہمیں دوست رکھتا ہے، ہمارے اقوال کو سنتے ہیں اور عمل میں بھی کوتاہی نہیں کرتے لیکن اس سے ان کا ھدف صرف دنیا اور شکم ہے ۔خدا ان کے شکم کو آتش سے بھر دے گا اور بھوک و پیاس کو ان پر مسلط کردے گا اورتیسرا گروہ ہم سے محبت رکھتا ہے ہمارے اقوال کو سنتے ہیں ، ہمارے فرمان کی اطاعت کرتے ہیں اور عمل میں ہماری مخالفت نہیں کرتے، یہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے۔
ہوس پرست لوگ بھی ایسے ہیں، انسان جو لذت بے قید و بند کی دلدل میں غوطہ ور ہے اور نامحدود غرائز سے لطف لے کر اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے، اس قابل کہاں ہے کہ ندای وجدان اور فرمان عقل جو کہ الہی عہد اور ذمہ داری کا بوجھ اس کے شانوں پر ڈالتے ہیں، اس کا جواب دے سکے؟
وہ انسان جو کہ لذت جوئی کے پست احاطہ میں تنہا شہوت بھری خواہشات اور شکم پر کرنے کی فکر میں رہتا ہے ممکن نہیں ہے کہ دوسروں کی فردی اور اجتماعی مشکلات اس کے لئے کوئی مفہوم رکھتی ہوں ۔
وہ شخص جو تنہا اپنی ناپاک لذتوں کو پورا کرنے کی فکر میں ہے اور ان اھداف کے راستے پر چلتے ہوئے انسانی اقدار کو پائمال کرتا ہے، ایسے انسان میں حقوق انسانی کو پائمال کرنے والوں کے خلاف مقابلہ کي طاقت کہاں ہے ،ایسا شخص انسانیت کو کیسے زندہ و بیدار کرسکتا ہے؟ بلکہ اگر کوئي آزادی انسانیت کی فکر کا خواہاں ہے تو یہ شخص اس کی جان کا دشمن ہے اور اس سے بغض و عداوت رکھتا ہے ۔
لذت طلبی کا نظریہ چونکہ سعادت بشر اور بشریت کے نظریہ کے ساتھ سازگار نہیں ہے اس لئے ان افراد سے کہ جو اس سعادت کے تحقق کے لئے کوشاں ہیں يہ طبیعی طور پر مخالف ہے.
(جاری ہے…)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=35397

مزید خبریں