18

عوام سے رابطہ اور ضرورت مندوں کی مدد امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت ہے

  • News cod : 47298
  • 16 می 2023 - 19:51
عوام سے رابطہ اور ضرورت مندوں کی مدد امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت ہے
آپ کی دوسری نمایاں صفت مخفیانہ مدد تھی۔ مدینہ والے رات کو اپنے گھروں کی دہلیز پر کھانا اور دیگر اشیا پاتے تھے لیکن لانے والے کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ امام کی شہادت کے بعد معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام رات کو ان کی مدد کرتے تھے۔

وفاق ٹائمز، آج 25 شوال حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے۔ شیعہ اور سنی کتابوں میں آپ کے مناظروں کی تفصیلات موجود ہیں۔  امام علی مقام کے علمی مناظروں اور ثقافتی خدمات کے بارے میں تحقیق کے لئے حوزہ علمیہ قم کے برجستہ استاد اور مختلف شبہات کا جواب دینے کے مرکز سے وابستہ حجت الاسلام امیر علی حسنلو کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا ہے۔

ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اجتماعی سیرت کی کیا خصوصیات ہیں؟

امام عالی مقام کے فضائل بہت ہیں۔ عطا و بخشش ان میں سے ایک ہے۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کے چچا زاد نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ آپ نے وضو کا پانی طلب کیا اور نماز پڑھنا شروع کی۔ میں نے سوچا کہ آپ نفرین کریں گے لیکن آپ نے نفرین کے بجائے اس کے لئے استغفار کیا اور فرمایا کہ خدایا میں نے اس کو بخش دیا تو بھی اپنے فضل و کرم سے اس کی خطا کو معاف کر۔ اس شخص کو آپ کے اس عفو و بخشش سے تعجب ہوا۔

آپ کی دوسری نمایاں صفت مخفیانہ مدد تھی۔ مدینہ والے رات کو اپنے گھروں کی دہلیز پر کھانا اور دیگر اشیا پاتے تھے لیکن لانے والے کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ امام کی شہادت کے بعد معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام رات کو ان کی مدد کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے صحابی کو کچھ مال عطا کیا اور فرمایا کہ فلان کے حوالے کرو لیکن میرا نام نہیں بتانا۔ اس نے جاکر امام کی امانت پہنچادی۔ اس شخص نے کہا کہ یہ نامعلوم شخص ہمیشہ میری مدد کرتا ہے لیکن جعفر صادق علیہ السلام نے آج تک میری مدد نہیں کی۔

آپ نے بنی امیہ کے دور میں اسلام اور دینی ثقافت پر آنے والے گردوغبار کو صاف کیا اور علمی اور ثقافتی فعالیت کے ذریعے سنت نبوی کا احیا کیا چنانچہ آپ کے والد محترم امام باقر علیہ السلام نے اس کی پیشن گویی کی تھی۔ آپ نے لوگوں کے عقائد سے شرک آلود اعتراضات اور شکوک کو دور کیا۔ دروس اور مختلف نشستوں میں آپ نے اپنی ذمہ داری ادا کی۔ آپ کے دور میں کئی اطراف سے دین کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے دربار سے وابستہ علماء ایک طرف اور الحادی فکر کے حامی دوسری طرف سے دین کو خطرے میں ڈال رہے تھے لیکن امام نے ان کے مقابلے میں مضبوط دیوار بن کر دین کا دفاع کیا۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس موجود علوم کا دائرہ کتنا وسیع ہے جو آپ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی؟

امام کے علم کا منبع خدا ہے۔ تمام انبیاء کے علوم کا وارث امام ہی ہے۔ ابوبصیر روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ غسل کے ارادے سے گھر سے نکلا لیکن راستے میں امام کی آمد کا علم ہوا۔ غسل کا ارادہ ترک کیا اور آپ کی زیارت کے لئے دوسرے اصحاب کے ساتھ میں بھی آپ کے گھر میں داخل ہوا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا ابوبصیر مجنب کو حق نہیں ہے کہ جنابت کی حالت میں انبیاء اور ان کی اولاد کے گھروں میں داخل ہوجائے۔ میں عذر خواہی کی اور آپ کے دربار سے خارج ہوا۔

شیخ طوسی نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے صحابی داوود بن کثیر کو دیکھ فرمایا کہ میں تیرے کردار سے خوش ہوں کیونکہ تم نے اپنے رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کی۔ داود کہتا ہے کہ میرا چچا زاد بھائی اہل بیت کا دشمن تھا لیکن گھریلو حالات سخت تھے۔ میں کچھ کھانے کا سامان ان تک پہنچادیا تھا۔ امام عالی مقام نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

امام علیہ السلام کے علماء کے ساتھ مناظروں کی کیا خصوصایت ہیں؟

امام جعفر صادق علیہ السلام کے علمی مناظرے دین کے دفاع میں تھے۔ آپ نے مناظرے کے لئے ھشام بن حکم جیسے شاگردوں کی بھی تربیت کی۔ امام کی اس سیرت سے آج حوزہ علمیہ کو سبق لینے کی ضرورت ہے تاکہ مختلف موضوعات پر پیش آنے والے جدید شبہات کا بروقت جواب دیا جاسکے۔ امام کا ہدف دوسروں پر غالب آنا نہیں تھا بلکہ مناظروں کے ذریعے عوام کی ہدایت چاہتے تھے۔

اس حوالے سے کئی نمونے تاریخ میں موجود ہیں۔ ابوخنیس کوفی سے منقول ہے کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی محفل میں موجود تھا۔ محفل میں کچھ مسیحی بھی تھے۔ وہ حضرت موسی اور حضرت عیسی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ فضیلت میں شریک سمجھتے تھے۔ امام نے فرمایا کہ رسول اسلام کو اللہ نے دوسروں سے زیادہ فضیلت عطا کی ہے۔ آپ نے قرآنی آیات کے ذریعے ثابت کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ فضیلت رکھتے تھے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مسیحیوں کے سوالات کا جواب دیتے تھے لیکن وہ آپ کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھے۔

اسی طرح آپ نے زرتشتی علماء سے بھی مناظرے کئے جس کے نتیجے میں بہت سارے زرتشتی اپنا دین چھوڑ کر اسلام لائے۔ ان میں سے بعض نے آپ کی شاگردی اختیار کی۔ امام کے شاگرد ان مناظروں میں حاضر ہوتے اور آپ سے مناظرے کا طریقہ سیکھتے تھے۔

اس زمانے میں الحاد اور ملحدین کے ساتھ آپ کا رویہ کیسا تھا؟

الحادی تفکر ہمارے زمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہمارے ائمہ کے دور میں ملحدین ہوتے تھے۔ قرآنی آیات اور روایات اس کی واضح دلیل ہیں۔ ائمہ نے ان کی ہدایت کے لئے خاص طریقہ اپنایا۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابن ابی العوجا اور ابن مقنع جیسے ملحدین کے ساتھ مناظرہ کیا اور انہوں نے اپنی حقارت کا اظہار کیا۔ حکومت نے ان دونوں کو پھانسی دی لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان کو اپنے عقیدے کے اظہار میں مکمل آزادی دی اور ان کی بات کو سنتے تھے۔ تاریخ میں امام عالی مقام اور ان کے مناظرے میں منقول ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ملحدین کے علاوہ مسلمان علماء مثلا ابوحنیفہ کے ساتھ بھی مناظرے کئے چنانچہ تاریخ میں دونوں کےد رمیان ہونے والے مناظروں کی تفصیل موجود ہے۔

ائمہ علیہم السلام کے علمی مناظروں سے کون سے اصول اخذ کرسکتے ہیں؟

آئمہ کرام مناظروں میں روشن فکری کے ساتھ ساتھ پوری علمی طاقت سے کام لیتے تھے۔ ان کا مقصد مدمقابل پر کامیابی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ راہ حق کی نشاندہی اصلی ہدف تھا۔ انسان کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانا ان کا مقصد تھا۔ ائمہ صرف مدمقابل کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ہدایت کے طلبگار تھے۔ اسی لئے مشرکین اور کفار کے ساتھ ساتھ مسلمان فرقوں اور علماء کے ساتھ بھی مناظرے کئے۔ تاریخی منابع ان مناظروں کی روداد سے بھری ہوئی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امام نور الہی اور زمین پر اللہ کا نمائندہ ہے اسی لئے سب کو روشنی سے منور کرنا چاہتے ہیں لیکن ظالم اور جابر حکمرانوں نے ہدایت کے نور کو چمکنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے بشریت اس نور سے محروم ہوگئی۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=47298